نَارٌ حَامِیَۃٌ ۔(101/11)
2۔۔۔۔۔۔
ووَقْعَۃَ خَالِدٍ شَھِدَتْ وَحَکَّتْ سَنَابِکَھا عَلَی الْبَلَدِ الْحَرَامٖ
ترجمہ:
اور خالد بن ولید کے واقعہ میں حاضر ہوئے اور انکے سموں نے مکہ مکرمہ(کی زمین)کو روندھا
مطلب :
وہ گھوڑے فتح مکہ میں شریک ہوئے اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی،اس واقعہ کو خالدبن ولیدبن مغیرہ سے اس لئے منسوب کیاکہ رسول اللہ صل اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کو گھڑ سواروں کاامیر مقرر فرمایاتھا، کوہ خندمۃ پرحضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کا قریش سے آمناسامنا ہو،ان سے جہاد کرانہیں بھگادیا ۔شاعر کا مقصد یہ ہے کہ میں نے کثرت سے جنگوں میں شرکت کی ہے اور مصائب وآلام جھیلنے کا خوگر ہو ں ۔
حل لغات:
وَقْعَۃٌ:قیامت، آفت زمانہ، تصادم ،پے درپے حملہ،لگاتار لڑائی ،رجُلٌ واقِعَۃٌ:بہادر آدمی، ہررونما ہونے والی چیز ،حادثہ ،واقعہ۔
حَکَّتْ:حکَّ الشیءَ بالشیءِ و علی الشیئِ(ن)حَکّاً:
رگڑنا، گھسنا، کھرچنا۔عربی مقولہ ہے:
ماحکَّ جِلْدَکَ مِثْلُ ظُفْرِکَ:
تیری کھال کو تیرے اپنے ناخن کی طرح کوئی چیز نہیں کھجلائے گی یعنی تم اپنی ضرورت کو آپ اچھی طرح پوری کر سکتے ہو۔سَنَابِکُ:مف:اَلسُّنْبُکُ:چوپائے کے پیر کاکنارہ ، کھر ، ہر شی کا اول حصہ آخری حصہ۔
3۔۔۔۔۔۔
نُعَرِّضُ لِلسُّیُوفِ اِذَاالْتَقَیْنَا وُجُوْھًا لَا تُعَرَّضُ لِلِّطَامٖ
ترجمہ:
جب ہم لڑائی کرتے ہیں توتلواروں کے لئے ایسے چہرے پیش کرتے ہیں جو طمانچوں کیلئے پیش نہیں کئے جاتے۔
حل لغات:
نُعَرِّضُ:(تفعیل)عَرَّضَ:پیش کرنا۔عربی مقولہ ہے:
عَرِّضْ للکَرِیمِ ولا تُبا حِثُ: