| دِيوانِ حماسه |
شاعر کاتعارف :
شاعرکانام:نام حریش بن ہلال قریعی ہے ،یہ اسلامی شاعراور صحابی ہیں، غزوہ حنین و فتح مکہ میں شریک ہوئے تھے۔ ان اشعار میں اپنی بہادری بیان کررہے ہیں۔
فائدہ:
حنین ایک وادی ہے اور یہ مکہ مکرمہ سے چند میل کے فاصلے پرطائف کے قریب واقع ہے، یہاں فتح مکہ کے تھوڑے ہی روز بعد قبیلہ ہوازن وثقیف سے جنگ ہوئی اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کثیر بارہ ہزار یا اس سے زائد تھی اور مشرکین چار ہزار تھے اور یہ غزوہ شوال 8ھ میں واقع ہوا، فتحِ مکہ مکرمۃ کیلئے 10 رمضان سن 8ھ جنوری 630ء کو رسول اللہ(فداہ روحی وجسدی)صل اللہ تعالی علیہ و آلہٖ وصحبہٖ وسلم
مدینہ سے دس ہزار بہادروں کا لشکر ساتھ لے کر مکّہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے
1۔۔۔۔۔۔
شَھِدْنَ مَعَ النَّبِیِّ مُسَوَّماتٍ حُنَیْنًا وَھْیَ دَامِیَۃُ الْحَوَامِیْترجمہ:
غزوہ حنین میں ایسے نشان زدہ گھوڑے نبی(صل اللہ تعالی علیہ و آلہٖ وصحبہٖ وسلم)
کے ساتھ حاضر ہوئے جن کے سم خون آلود تھے۔
مطلب :
شاعر جنگ میں شریک ہوئے اورتیز رفتاری،تھکاوٹ اور تیر لگنے کی وجہ سے گھوڑوں کے سم خون آلود ہوچکے تھے۔
حل لغات:
مُسَوَّماتٌ:مفع، سوَّم الشیئَ:خاص نشانہ لگانا، عمدہ گھوڑوں کو بطور علامت خاص نشان لگاتے تھے جس سے وہ دور سے پہچان لیئے جاتے تھےفی القرآن المجید:
وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِکَ۔(3/14)
اَلنَّبِیُّ:اﷲتعالی کی طرف سے خبر دینے والا پیغمبر یعنی خدا تعالی کا وہ مخصوص ومعصوم بندہ جو انسانوں کی ہدایت کیلئے مامور ہو اور خداکے احکام ان تک پہنچائے ۔
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ وَمَأْوَاھُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْر۔(66/9)
ہمزہ کو یا سے بدل کر ادغام کے ساتھ''نَبِیٌّ''بھی کہا جاتا ہے ج:
اَنْبِیَاءُ و اَنْبَاءٌ و نُبَاءٌ۔
اونچی اور محدب:(بیچ میں سے اٹھی ہوئی )جگہ، واضح نشانات والاراستہ۔دَامِیَۃٌ:خون آلود،