Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
120 - 324
الصَّیْدِ تَنَالُہُ أَیْدِیْکُمْ ورِمَاحُکُمْ لِیَعْلَمَ اللّہُ مَن یَخَافُہُ بِالْغَیْبِ۔(5/94)
دَرِیَّۃٌ:وہ دائرہ جس پر نیزہ زنی کی مشق کی جائے، وہ چوپایا جس کی آڑ میں شکاری شکار کرتاہے۔اَمَامٌ:سامنے اور موجودگی میں ۔
بَلْ یُرِیْدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ أَمَامَہ ۔ (75/5)
3۔۔۔۔۔۔

        حَتّٰی خَضَبْتُ بِمَا تَحَدَّرَ مِنْ دَمِیْ              اَکْنَافَ سَرْجِیْ اَوْعِنَانَ لِجَامِیْ
ترجمہ:

    یہاں تک کہ میں نے اپنے بہتے ہوئے خون سے اپنی زین کے کناروں یا اپنی لگام کی رسی کو رنگ دیا۔

حل لغات:
     خَضَبْتُ:خضب الشیءَ(ض)خَضْبًا:
رنگنا، خضاب کرنا۔ تَحَدَّرَ:(تفعل)بھر جانا،موٹا ہوجانا، ڈھلکنا، نیچے اترنا، آنسو ڈھلکنا۔دَمٌ:خون۔ج:دِماءٌ ،دُمَیٌّ ۔سَرْجٌ:زین۔ج:سُرُوْجٌ۔عِنَانٌ:لگام کی ڈوری جسکے ذریعے جانور کو پکڑ اجاتاہے اور دوبرابرکے طاق ہوتے ہیں۔اَعِنَّۃٌ۔لِجَامٌ:لگام(اصل میں وہ لوہا جو گھوڑے کے منہ میں رہتاہے پھر اس پورے مجموعہ پر بولا جانے لگا جو تسموں وغیرہ پر مشتمل ہوتاہے)ج:
اَلْجِمَۃٌ،لُجُوْمٌ،لُجْمٌ۔
4۔۔۔۔۔۔

     ثُمَّ انْصَرَفْتُ وقد اَصَبْتُ ولم اُصَبْ              جَذَعَ الْبَصِیْرَۃِ قَارِحَ الْاِقْدَامٖ
ترجمہ:

    پھر میں واپس ہواتحقیق میں نے قتل کیا اورمیں زخمی بھی نہیں ہو ااس حال میں کہ میری بصیرت گھوڑے کے دو سالہ بچے جیسی (اور )حملہ تجربہ کا ر گھوڑے جیسا تھا ۔

مطلب:

    سابقہ اشعار میں مذکور حالت کے باوجود میں اس طرح واپس لوٹاکہ میں تودشمنوں سے اپنا مقصود حاصل کرچکاتھا لیکن وہ مجھ سے اپنا مقصد حاصل نہ کرسکے ،یہ اس لئے ہوا کہ میں انتہائی تجربہ کار جنگجو ہوں۔
حل لغات:
    جَذَعٌ:من الخیل:
گھوڑے کا وہ بچہ جس کی عمر کا تیسرا سال شروع ہوگیا ہو۔
ج: جِذاعٌ وجِذْعانُ۔قارِحٌ:
سم والاجانور جس کے رباعیہ سے متصل دانت کے ٹو ٹنے کے بعد اس کی جگہ کچلی نکل آئی ہو۔ج:قَوَارِحُ وقُرَّحٌ ۔ہر سم والے جانور کے اوپر نیچے کے اگلے آٹھ دانتوں سے متصل چار کچلیوں میں سے ایک ، پورے قد کا اونٹ، حاملہ اونٹنی، تجربہ کار۔
Flag Counter