Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
119 - 324
ترجمہ:

    جنگ کے دن موت کے خوف سے کوئی بھی ہرگز پیچھے ہٹنے کی کوشش نہ کرے۔ 

مطلب:

    جنگ میں ثابت قدمی پر ابھارنا مقصود ہے،کہ انجام کی پرواہ کئے بغیردشمن کامقابلہ کرو،کیونکہ ڈر نے سے تقدیر نہیں ٹلتی اورنہ ہی سوچنے سے موت مؤخر ہوسکتی ہے ۔
               جسے زندگی ہوپیاری، وہ یہیں سے لوٹ جائے

     		اس قافلے میں شامل کوئی  کم ظرف نہیں ہے
حل لغات:
     یَرْکَنَنْ:رکن الیہ(ف)رَکْنًا:
کسی کی طرف مائل ہونا او رمطمئن ہونا،دل سے لگاؤہونا، کسی پر بھروسہ کرنا،کسی کا سہارا لینا۔
فی القرآن ا لمجید:
وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللّہِ مِنْ أَوْلِیَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُون۔ (11/113)
اَلْاِحْجَامُ:مص (افعال)اَحْجَمَ فلان عن الشیئِ:
بازرہنا،ڈرکر پیچھے ہٹنا،رکنا ۔ مُتَخَوِّفٌ:فا(تفعل)خوف زدہ۔اَلْحِمامُ:فیصلہ موت، قسمت، موت۔ اَلْحَمامُ:مف۔ حَمامَۃٌ:کبوتر، کہا گیا ہے کہ''حَمامَۃٌ'' مذکر ومؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں ''تا''تانیث کی نہیں بلکہ وحدت کی ہے اور بہت دفعہ ''حَمامٌ'' کااطلاق مفرد پر بھی ہوتاہے، کبوتر۔ج:حَمَائِمُ۔الحُمَامُ:تمام جانوروں کا بخار خصوصًا گھوڑوں کا۔
2۔۔۔۔۔۔

      فَلَقَدْ اَرَانِیْ لِلرِّماحِ دَرِیَّۃً                       مِنْ عَنْ یَمِیْنِیْ مَرَّۃً واَمَامِیْ
ترجمہ:

    تحقیق میں نے اپنے آپ کو نیزوں کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا کبھی دائیں جانب سے تو کبھی آگے سے۔

مطلب:

    جنگ میں ثابت قدمی پر ابھارنے کیلئے جنگ میں اپنی حالت بیان کررہاہے ، دائیں اور سامنے کی جانب کے ذکر پر اقتصار اس لئے کیاکہ جس طرح دائیں طرف سے حملہ ہوتا ہے اسی طرح بائیں طرف سے بھی ہوسکتاہے اور پیٹھ میں نیزوں کالگنافرار ہونے کی علامت ہے،اور یہ بہادر شہ سوار کے شایانِ شان نہیں۔ 

حل لغات:

     اَلرِّماحُ:مف:الرُّمْحُ:نیزہ۔
فی القرآن ا لمجید:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ
Flag Counter