کسی کی طرف مائل ہونا او رمطمئن ہونا،دل سے لگاؤہونا، کسی پر بھروسہ کرنا،کسی کا سہارا لینا۔
وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللّہِ مِنْ أَوْلِیَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُون۔ (11/113)
اَلْاِحْجَامُ:مص (افعال)اَحْجَمَ فلان عن الشیئِ:
بازرہنا،ڈرکر پیچھے ہٹنا،رکنا ۔ مُتَخَوِّفٌ:فا(تفعل)خوف زدہ۔اَلْحِمامُ:فیصلہ موت، قسمت، موت۔ اَلْحَمامُ:مف۔ حَمامَۃٌ:کبوتر، کہا گیا ہے کہ''حَمامَۃٌ'' مذکر ومؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں ''تا''تانیث کی نہیں بلکہ وحدت کی ہے اور بہت دفعہ ''حَمامٌ'' کااطلاق مفرد پر بھی ہوتاہے، کبوتر۔ج:حَمَائِمُ۔الحُمَامُ:تمام جانوروں کا بخار خصوصًا گھوڑوں کا۔
2۔۔۔۔۔۔
فَلَقَدْ اَرَانِیْ لِلرِّماحِ دَرِیَّۃً مِنْ عَنْ یَمِیْنِیْ مَرَّۃً واَمَامِیْ
ترجمہ:
تحقیق میں نے اپنے آپ کو نیزوں کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا کبھی دائیں جانب سے تو کبھی آگے سے۔
مطلب:
جنگ میں ثابت قدمی پر ابھارنے کیلئے جنگ میں اپنی حالت بیان کررہاہے ، دائیں اور سامنے کی جانب کے ذکر پر اقتصار اس لئے کیاکہ جس طرح دائیں طرف سے حملہ ہوتا ہے اسی طرح بائیں طرف سے بھی ہوسکتاہے اور پیٹھ میں نیزوں کالگنافرار ہونے کی علامت ہے،اور یہ بہادر شہ سوار کے شایانِ شان نہیں۔
حل لغات:
اَلرِّماحُ:مف:الرُّمْحُ:نیزہ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ