Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
118 - 324
ہوتے ہیں اگرچہ ہم انجام پر نظر نہیں رکھتے۔

حل لغات:

     بَصَائِرُ:مف:اَلْبَصِیْرَۃُ:ذکاوت ،فہم وفراست ، علم، نورقلب، دلیل، محافظ، عبرت، پردہ، ڈھال، تھوڑا ساخون۔
3۔۔۔۔۔۔

      ولَقَدْ رَاَئیْتُ الْخَیْلَ شُلْنَ عَلَیْکُمْ            شَوْلَ الْمَخَاضِ اَبَتْ عَلَی الْمُتَغَبِّرٖ
ترجمہ:

    اللہ کی قسم میں نے گھوڑوں کو تمہارے پیچھے دم اٹھا کر تیز دوڑتے ہوئے دیکھا جس طرح حاملہ اونٹنیاں دم اٹھا کر باقی ماندہ دودھ دوہنے والے پر انکا رکردیتی ہیں ۔

مطلب: 

    شاعردشمن کے میدانِ جنگ سے فرار ہونے کا نقشہ کھینچ رہا ہے ۔

حل لغات:
    شُلْنَ :شال الشیئُ(ن)شَوْلا:
اوپراٹھنا، کنایہ ہے تیز دوڑنے سے کیونکہ جانور جب تیز دوڑتا ہے تو دم اٹھاتا ہے ۔المخاض:درد زہ۔
فی القرآن ا لمجید:
فَأَجَاء ہَاالْمَخَاضُ إِلَی جِذْعِ النَّخْلَۃ۔(19/23)
دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں۔اَبَتْ:(ف)اِباءً:نافرمانی کرنا،بغاوت کرنا۔ الشیئَ:ناپسند کرنا، نہ ماننا، حقارت سے رد کرنا۔
وَیَأْبَی اللّہُ إِلاَّ أَن یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُون۔(9/32)
اَلْمُتَغَبِّرُ:فا، (تفعل)گرد آلود ہونا، الناقۃَ:اونٹنی کابچاہوا دودھ نکالنا۔
وقَالَ قَطَرِیُّ بْنُ الْفُجَاءَ ۃِ (الکامل)
شاعرکانام:

    قطری بن فجاء ۃ ہے (متوفی 78ھ/697ء اوربعض نے77ھ لکھاہے)یہ سرداران ِخوارج سے ہیں اور یہ خطیب،شہسواراورشاعر تھے۔ قطری :اس میں ''ی ''نسبت کی ہے ،شہر قطر کی طرف منسوب ہے جوبحرین اور عمان کے درمیان واقع ہے۔شاعر کے والد کانام''فجاء ۃ''اس طرح پڑا کہ وہ یمن گئے تھے اور اچانک آگئے تو لوگوں نے کہا ''فُجاءَ ۃ''(اچانک)تو ان کانام ہی''فُجاءَ ۃ ''پڑگیا۔
1۔۔۔۔۔۔

       لایَرْکَنَنْ اَحَدٌاِلَی الْاِحْجَامِ                        یَوْمَ الْوَغٰی مُتَخَوِّفًا لِحِمَامٖ
Flag Counter