ترجمہ:
اور(اسے یہ بھی بتائیں گے)کہ میں ہمیشہ جنگجو رہا ہوں جب خود جرم نہیں کرتا تو مجرم کی ڈھال بن جاتا ہوں۔
جرم کرنا،گناہ کرنا ۔مِجَنٌّ:ڈھال ، کما ن، ج:مَجَانُّ ۔جَانٍ:فا ۔
وقَالَ بَعْضُ بَنِیْ تَیْمِ اﷲِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ (الکامل)
یہ اشعار علقمہ بن شیبان کے ہیں اوریہ شاعر جاہلی اور منذرکا ہم عصر ہے ۔
اشعار کا پس منظر:
شاعر نے مقام ''اوارہ ''میں متمطر(جومنذر کابھائی نعمان کا دادا تھا )پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا ،شاعر نے مقتول کو''منذر''سمجھ کرحملہ کیا تھا کیونکہ وہ خودپہنے ہوئے تھا ۔شاعر اسی واقعہ کو اشعار میں بیان کررہا ہے۔
1۔۔۔۔۔۔
ولقد شَھِدْتُّ الْخَیْلَ یَوْمَ طِرَادِھَا وَطَعَنْتُ تَحْتَ کِنَا نَۃِ الْمُتَمَطِّر
ترجمہ:
تحقیق میں شہسواروں میں حاضر ہوا انکے حملے کے دن اور میں نے متمطر کے ترکش کے نیچے سے نیزہ مار ا ۔
حل لغات:
طِرَادٌ:مص(مفاعلۃ)طارَدَ:حملہ آور ہونا،پیچھا کرنا،حملہ کرنے میں مقابلہ کرنا، سبقت لے جانے کی کوشش کرنا۔ کِنَا نَۃٌ:تیررکھنے کا چمڑے کا تھیلہ ، ترکش ۔کَنَائِنُ۔ سر زمین مصر(مجازا)
2۔۔۔۔۔۔
نُطَاعِنُ الْاَبْطَالَ عَنْ اَبْنَا ئِنَا وعَلٰی بَصَائِرِنَا واِنْ لَّمْ نُبْصِرٖ
ترجمہ:
اور ہم بہادروں سے نیزہ زنی کرتے ہیں اپنے بچوں کی حفاظت کیلئے اس حال میں کہ ہمارے ہوش وہواس قائم