Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
115 - 324
قدم۔
فی القرآن المجید:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ۔(2/208)
ج:خُطُواتٌ وخُطَوَاتٌ وخُطًی۔رَقِیْقٌ:
باریک ، نازک ولطیف، غلام (واحد جمع سب کے لئے)ج:اَرِقَّاءُ۔اَلشّفْرَتَین:تثنیہ ہے اَلشَّفْرَۃُ کا :دھار، بلیڈ(یک رخا یا دو رخا ا سترایا کاٹنے کا اوزار)بال صاف کرنے کا بلیڈ، مو چی کی راپنی(چمڑا کا ٹنے کی کھرپی)چپٹی چھری، تلوار کی دھار ، خفیہ تحریر یا باہمی طور پر متفق علیہ خفیہ رموز کے ذریعے پیغام رسانی۔ج:شِفَارٌ وشَفْرٌ۔

نوٹ:
     وَصَّالُوْنَ خَطْوَھُمْ بِکُلِّ رَقِیْقِ الشَّفْرَتَیْنِ''
اس عبارت میں قلب ہوا ہے، اصل عبارت یوں ہے''
کُلّ رَقِیْقِ الشَّفْرَتَیْنِ بِخَطْوِھِمْ ''
 (شرح مرزوقی، ج1،ص97،بیروت)
6۔۔۔۔۔۔

         اِذَا اسْتُنْجِدُوْالَمْ یَسْاَلُوْا مَنْ دَعَاھُمْ              لِاَیَّۃِ حَرْبٍ اَمْ بِاَیِّ مَکَانٖ
ترجمہ:

    جب ان سے مدد طلب کی جائے تو بلانے والے سے نہیں پوچھتے کہ کس جنگ کے لئے یا کس مقام پر ۔

حل لغات:
     اُسْتُنْجِدُوْا:(استفعال)اِسْتَنْجَدَ:
طاقت حاصل کرنا،طاقتور ہوجانا ، بہادر ہوجانا،باہمت ہوجانا، علی فلانٍ:کسی کے سامنے ڈٹ جانا ، فلانًا وبہٖ:کسی سے مدد چاہنا،فریاد کرنا۔
وقال سَوَّارُبْنُ المُضَرَّبِ السَّعْدِی (الوافر)
شاعر کا نام :

    سوار بن مضرب سعدی ہے اور یہ اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

      فَلَوْ سَاَئلَتْ سَرَاۃَ الْحَیِّ سَلْمٰی                عَلٰی اَنْ قدتَلَوَّنَ بِیْ زَمَانِیْ
ترجمہ:

    اگر سلمیٰ قوم کے سرداروں سے پوچھے اسکے باوجود کہ زمانہ نے میری حالت تبدیل کردی 

حل لغات:

     تَلَوَّنَ:(تفعل)رنگین ہونا ،رنگین بننا، فلانٌ:ایک عادت پر قائم نہ رہنا ، رنگ بدلتے رہنا ۔زَمَانٌ :وقت، عرصہء
Flag Counter