Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
113 - 324
ترجمہ:

    اگر تم کہو کہ ہم نے ظلم کیا تو ہم نے ظلم نہیں کیا،لیکن ہم نے برا تقاضا کیا۔
حل لغات:
     اَسَاْئنَا:(افعال)، اَسَاءَ عَلَیْہِ:
کسی کے ساتھ برائی کرنا۔التَّقَاضِی:مص،(تفاعل)تقاضاہ الدَّیْنَ:کسی سے اپنا دیا ہوا قرض مانگنا، کسی سے اپنا قرض وصول کرلینا۔
وقال وَدَّاکُ بْنُ ثُمَیْلٍ اَلْمازِنِیُّ (الطویل)
شاعر کا نام:

     وداک بن ثمیل مازنی ہے۔(بعض نسخوں میں شمیل''ش ''سے ہے جبکہ بیروت کے نسخے میں ''ث''سے ہے اور اسی کے مطابق یہاں لکھاگیا ہے،اور ابوعلی احمد مرزوقی کے نسخے میں ''نُمَیْل ''ہے)

اشعار کا پس منظر:

    بنو شیبان''سفوان''نامی کنویں سے بنو مازن کا قبضہ چھڑانا چاہتے تھے ؛کیونکہ ان کا دعوی تھا کہ یہ کنواں ہمارا ہے،اس وجہ سے انہوں نے بنومازن کو دھمکیا ں دینا شروع کیں ان دھمکیوں کے جواب میں شاعر نے یہ اشعارکہے :
1۔۔۔۔۔۔

      رُوَیْدَ بَنِیْ شَیْبَانَ بَعْضَ وَعِیْدِکُمْ           تُلاقُوْا غَدًا خَیْلِیْ عَلٰی سَفَوَانٖ
ترجمہ:

    اے بنو شیبان! اپنی کچھ دھمکیاں روک لو، کل سفوان( کنویں)پر میرے شہسواروں سے ملوگے۔

حل لغات:

    رُوَیْد:آہستہ۔
رُوَیْدَ خَالدٍ، ورُوَیدًاخالدًا، ورویدَکَ خالدًا۔
خالد کو مہلت دو۔
فی القرآن المجید:
 ( فَمَہِّلِ الْکٰفِرِیۡنَ اَمْہِلْہُمْ رُوَیۡدًا )(86/17)
رُویدًا:وہ آہستہ چلا۔ الرُّویْد:اِرْوَادکی تصغیر(بر بناء ترخیم)تُلاقُوا:(مفاعلۃ)لاقاہ:ملاقات کرنا،اتفاق یا اچانک کسی سے ملنا، استقبال کرنا۔
2۔۔۔۔۔۔

          تُلاقُوْاجِیَادًا لا تَحِیْدُ عَنِ الْوَغٰی            اذا مَا غَدَتْ فِی الْمَاْزِقِ الْمُتَدَانِی
ترجمہ:

    تم ایسے عمدہ گھوڑوں سے ملاقات کروگے جو تنگ میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوں تو جنگ سے نہیں بھاگتے۔
Flag Counter