4۔۔۔۔۔۔
وَقَدْ سَاءَ نِیْ مَاجَرَّتِ الْحَرْب ُ بَیْنَنَا بَنِیْ عَمِّنَا لَوْکانَ اَمْرًا مُدَانِیَا
ترجمہ:
تحقیق مجھے وہ چیز بری لگی جس کو جنگ ہمارے درمیان کھینچ لائی اے چچازاد بھائیو! کاش معاملہ حد سے نہ بڑھا ہوتا۔
مطلب:
جنگ سے پہلے صلح صفائی ممکن تھی، لیکن جنگ کے بعد صلح صفائی کی کوئی صور ت نظر نہیں آتی، انتہائی قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود آپس میں دشمن بنے ہوئے ہیں ، ہائے حسرت !وائے ناکامی!
(یَسُومُونَکُمْ سُوَءَ الْعَذَاب) (2/49)،
بہٖ:بدگمانی کرنا،شک کرنا۔عربی مقولہ ہے:
''سُوْ ءُ الظن من شدۃ الضِّنِّ''۔
بد گمانی انتہائی دوستی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
''انما ینشیء الظن السوء''۔ جَرَّ:بہٖ(ن)جَرًا:
کھینچنا،گھسیٹنا،ہانکنا، سبب بننا۔
''کُلٌّ یَجُرُّ النَّا رَ الی قُرصِہٖ''۔
ہر شخص اپنی ٹکیہ کی طرف آگ کھینچتاہے، یعنی ہر شخص اپنے نفس کے لئے خیر چاہتا ہے۔ اَلْحَرْبُ:لڑائی ، جنگ (مؤنث سماعی کبھی بمعنی قتال مذکر بھی استعمال ہوتاہے)''اَلْحَرْبُ خَدْعَۃٌ ''۔لڑائی دھوکہ ہے ۔ مُدَانِی:فا،(مفاعلۃ)داناہُ۔کسی سے قربت حاصل کرنا، نزدیک ہونا، بین الشیئین۔ دوچیزوں کو ملانا۔
(ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ) (53/8)
5۔۔۔۔۔۔
فَاِنْ قُلْتُمْ اِنَّا ظَلَمْنَا فَلَمْ نَکُنْ ظَلَمْنَا ولٰکِنَّا اَسَاْئنَا التَّقَاضِیَا