Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
112 - 324
قُضَاۃٌ۔ قضی(ض)قَضَاءً:
فیصلہ کرنا، طے کرنا، مقدمہ کا حکم سنانا۔
3۔۔۔۔۔۔

      وَلٰکِنَّ حُکْمَ السَّیْفِ فِیْکُمْ مُسَلَّطٌ              فَنَرْضٰی اِذَا مَااَصْبَحَ السَّیْفُ رَاضِیًا
ترجمہ:

    لیکن تلوار کافیصلہ تم پر مسلط رہے گاہم اسی وقت راضی ہوں گے جب تلوار راضی ہوگی۔

حل لغات:

     مُسَلَّطٌ:مفع، (تفعیل)، سلَّطہ:اختیار و اقتدار دینا، حاکم بنانا، علیہ:مسلط کرنا، کسی پر قابو یا فتہ بنانا، کسی کے بارے میں اختیارات دینا۔
4۔۔۔۔۔۔

       وَقَدْ سَاءَ نِیْ مَاجَرَّتِ الْحَرْب ُ بَیْنَنَا                    بَنِیْ عَمِّنَا لَوْکانَ اَمْرًا مُدَانِیَا
ترجمہ:

    تحقیق مجھے وہ چیز بری لگی جس کو جنگ ہمارے درمیان کھینچ لائی اے چچازاد بھائیو! کاش معاملہ حد سے نہ بڑھا ہوتا۔ 

مطلب:

     جنگ سے پہلے صلح صفائی ممکن تھی، لیکن جنگ کے بعد صلح صفائی کی کوئی صور ت نظر نہیں آتی، انتہائی قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود آپس میں دشمن بنے ہوئے ہیں ، ہائے حسرت !وائے ناکامی!
حل لغات:
    سَاءَ:الشیءَ(ن)سَوْءً:
براہونا۔
فی القرآن المجید:
 (یَسُومُونَکُمْ سُوَءَ الْعَذَاب) (2/49)،
بہٖ:بدگمانی کرنا،شک کرنا۔عربی مقولہ ہے:
''سُوْ ءُ الظن من شدۃ الضِّنِّ''۔
بد گمانی انتہائی دوستی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
''انما ینشیء الظن السوء''۔ جَرَّ:بہٖ(ن)جَرًا:
کھینچنا،گھسیٹنا،ہانکنا، سبب بننا۔
''کُلٌّ یَجُرُّ النَّا رَ الی قُرصِہٖ''۔
ہر شخص اپنی ٹکیہ کی طرف آگ کھینچتاہے، یعنی ہر شخص اپنے نفس کے لئے خیر چاہتا ہے۔ اَلْحَرْبُ:لڑائی ، جنگ (مؤنث سماعی کبھی بمعنی قتال مذکر بھی استعمال ہوتاہے)''اَلْحَرْبُ خَدْعَۃٌ ''۔لڑائی دھوکہ ہے ۔ مُدَانِی:فا،(مفاعلۃ)داناہُ۔کسی سے قربت حاصل کرنا، نزدیک ہونا، بین الشیئین۔ دوچیزوں کو ملانا۔
 (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ) (53/8)
5۔۔۔۔۔۔

      فَاِنْ قُلْتُمْ اِنَّا ظَلَمْنَا فَلَمْ نَکُنْ              ظَلَمْنَا ولٰکِنَّا اَسَاْئنَا التَّقَاضِیَا
Flag Counter