1۔۔۔۔۔۔
بَنِیْ عَمِّنَا لَا تَذْکُرُوْا الشِّعْرَ بَعْدَ مَا دَفَنْتُمْ بِصَحْرَاءِ الْغُمَیْرِ الْقَوَافِیَاترجمہ:
اے ہمارے چچاکے بیٹو! اشعار کو صحرا ء غمیر میں دفن کر دینے کے بعد ان کاذکر نہ کرو۔
مطلب:
تم توشکست کھاکر میدان سے فرار ہوئے تھے اب کس منہ سے اشعار کہہ رہے ہو؛ کیونکہ اشعار تو کسی فخریہ کارنامے پر کہے جاتے ہیں۔حل لغات:
تَذْکُرُوْا:ذکر الشیءَ(ن)ذِکْرًا:
یادکرنا(دل اور زبان سے)یا درکھنا، اﷲَ:اﷲکا ذکر کرنا،اس کی تعریف کرنا،نام لینا۔
فی القرآن المجید:
(فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُون) (2/152)
ذہن میں لانا، بھولنے کے بعد یادآجانایا زبان پر آنا،الناسَ:لوگوں کی غیبت کرنا،النعمۃَ:نعمت پر شکر کرنا، فلانۃً:کسی عورت کو پیغام نکاح دینا۔
فی الحدیث:((اِنَّ عَلِیًّا یَذْکُرُ فَاطِمَۃَ))۔الشیئ:
عیب نکالنا۔
(أَھَذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ آلِہَتَکُمْ وَھُم بِذِکْرِ الرَّحْمَنِ ھُمْ کَافِرُون)(21/36)
عربی مقولہ ہے:
''اُذْ کُرْ مع کُلِّ نعمَۃٍ زوالَھا''۔
ہرنعمت کے ساتھ اس کے زوال کوبھی یاد کر۔
دَفَنْتُمْ:دفن الشیءَ(ض)دَفْناً:
چھپانا، دفن کرنا، زمین میں گاڑنا۔
2۔۔۔۔۔۔
فَلَسْنَا کَمَنْ کُنْتُمْ تُصِیْبُوْنَ سَلَّۃً فَنَقْبَلَ ضَیْمًا اَوْ نُحَکِّمُ قَاضِیًاترجمہ:
ہم اس شخص کی طرح نہیں جسے تم خفیہ طورپر تکلیف پہنچاتے تھے کہ ہم ظلم قبول کرلیں یا قاضی کو حکم بنا لیں۔
حل لغات:
سلّۃً:ایک جنبش، تلوار کی بر آمدگی ، حرکت، چوری۔عربی مقولہ ہے:''اَلْخلَّۃُ تَد عُو اِلَی السَّلَّۃِ ''۔
غربت یا ضرورت چوری کا سبب بنتی ہے ۔
نَقْبَلُ:الشیئَ(س)قُبُولاً:
خوش دلی سے لینا،قبول کرنا،کسی چیز کو لے لینا۔
فی القرآن المجید:
(وَلَا تَقْبَلُوا لَھُم شَہَادَۃً أَبَدا)۔(24/4)
الکلامَ۔کلام کی تصدیق کرنا۔نحکِّم:(تفعیل)، حَکَّمَہ،:حاکم بنانا،حکم وثالث بنانا۔
(حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُم)۔(4/65)
قاضی:فا،ج: