Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
110 - 324
حل لغات:

     مُعَوَّدَۃٌ:مفع، (تفعیل)عَوَّدَ الشیئَ:عادی بنانا۔ نِصَالٌ:مف :نَصْلٌ:نیزہ اور تیر کی انی(پیکان ،پھل)۔ تُغْمَد:غَمْدًا۔(ض)تلوار میان میں رکھنا۔قَبِیْلٌ:نسل ، جماعت، پیروکار۔
فی القران المجید:
 (إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہُ مِنْ حَیْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ) (7/27)
21۔۔۔۔۔۔

  سَلِیْ اِنْ جَھِلْتِ النَّاسَ عَنَّا وعَنْھُم           ولَیْسَ سَوَاءً عَالِمٌ وجَھُوْل،
ترجمہ:

    اگر تو بے خبر ہے تو لوگو ں سے ہمارے اور ان کے بارے میں معلوم کر؛ کیونکہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔
22۔۔۔۔۔۔

       فَاِنَّ بَنِی الدَّیَّانِ قُطْبٌ لِقَوْمِھِم             تَدُوْرُ رَحَاھُمْ حَوْلَھُمْ وتَجُوْل،
ترجمہ:

    کیونکہ بنودیان اپنی قوم کا محورہیں ان کی چکی ان کے ارد گرد گھومتی اور چکر کاٹتی ہے۔

مطلب:

    سابقہ خوبیاں اس لئے ہیں کہ بنو دیان اپنی قوم (حارث بن کعب کی اولاد)کا محورومرکز ہیں ان کی ساری صلاحیتیں اور کارنامے ہمارے دم سے ہیں۔    

حل لغات:

     قُطْبٌ:محور،مرکز،مدار،دھرا(جس پر پہیا گھومتاہے)چکی کی کیل جس پر اوپر کا پاٹ گھومتاہے، محور کا کنارہ، ہرشے کا قوام اور اس کے اجزاء ترکیبیہ جن پر اس کا مدار ہو ، نیزہ کا پھل، ایک قسم کی گھاس، سر بر آوردہ، چوٹی کا آدمی ، محور قوم۔ج:
قُطُوبٌ واَقْطابٌ وقِطَبَۃٌ ۔
زمین کے دو قطب ہیں ایک شمالی دوسرا جنوبی(اہل جغرافیہ کے نزدیک)
تَجُوْلُ:جال فی الارضِ(ن)جَولاً:
گھومنا، پھرنا، چکر لگانا، گشت لگانا۔
             قال الشَمَیْذَرُ اَلْحَارِثِیُّ (الطویل)
شاعرکاتعارف:
     شاعر کانام:شَمَیْذَرحارثی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔
Flag Counter