ترجمہ:
اگر تو بے خبر ہے تو لوگو ں سے ہمارے اور ان کے بارے میں معلوم کر؛ کیونکہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔
22۔۔۔۔۔۔
فَاِنَّ بَنِی الدَّیَّانِ قُطْبٌ لِقَوْمِھِم تَدُوْرُ رَحَاھُمْ حَوْلَھُمْ وتَجُوْل،
ترجمہ:
کیونکہ بنودیان اپنی قوم کا محورہیں ان کی چکی ان کے ارد گرد گھومتی اور چکر کاٹتی ہے۔
مطلب:
سابقہ خوبیاں اس لئے ہیں کہ بنو دیان اپنی قوم (حارث بن کعب کی اولاد)کا محورومرکز ہیں ان کی ساری صلاحیتیں اور کارنامے ہمارے دم سے ہیں۔
حل لغات:
قُطْبٌ:محور،مرکز،مدار،دھرا(جس پر پہیا گھومتاہے)چکی کی کیل جس پر اوپر کا پاٹ گھومتاہے، محور کا کنارہ، ہرشے کا قوام اور اس کے اجزاء ترکیبیہ جن پر اس کا مدار ہو ، نیزہ کا پھل، ایک قسم کی گھاس، سر بر آوردہ، چوٹی کا آدمی ، محور قوم۔ج:
قُطُوبٌ واَقْطابٌ وقِطَبَۃٌ ۔
زمین کے دو قطب ہیں ایک شمالی دوسرا جنوبی(اہل جغرافیہ کے نزدیک)
تَجُوْلُ:جال فی الارضِ(ن)جَولاً:
گھومنا، پھرنا، چکر لگانا، گشت لگانا۔
قال الشَمَیْذَرُ اَلْحَارِثِیُّ (الطویل)
شاعر کانام:شَمَیْذَرحارثی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔