Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
108 - 324
مُنکِرُونَ) (12/58)
شِئْنَا:شاءَہ، (ف)شَیْئًا:
ارادہ کرنا،چا ہنا ، علی الامرِ:کسی بات پر آمادہ کر نا،اکسانا۔
16۔۔۔۔۔۔

       اِذَا سَیِّدٌ مِنَّا خَلَا قَامَ سَیِّدٌ             قَؤُوْلٌ لِّمَا قَالَ الْکِرَامُ فَعُوْل،
ترجمہ:

    جب بھی ہمارا کوئی سردار مرتاہے تو دوسرا سرداراس کا جانشین بن جاتاہے، جس کا قو ل وفعل سرداروں جیسا ہوتاہے۔

حل لغات:

    خَلا:المکانُ(ن)خُلُوًّا:خالی ہونا، الشیئُ: گزرجانا۔
''خلاءُ کَ اَقْنٰی لِحَیائِکَ''۔
تنہائی تیری حیاکی زیادہ محافظ ہے، یعنی تنہائی میں دوسرے سے معاملہ ہی نہیں ہوتا جو بے شرمی کا سوال ہے ۔
17۔۔۔۔۔۔

       وما اُخْمِدَتْ نَارٌ لَّنَا دُوْنَ طَارِقٍ       ولا ذَمَّنَا فِی النَّازِلِیْنَ نَزِیْل،
ترجمہ:

    اور ہماری آگ رات کے وقت آنے والے مہمان سے پہلے نہیں بجھائی جا تی اور مہمانوں میں سے کوئی بھی مہمان ہماری مذمت نہیں کرتا۔

مطلب:

    پہلے زمانے میں لوگ سفر کرتے تھے اور رات کو جہاں آگ دیکھتے وہاں چلے جاتے؛ کیونکہ آگ آبادی کی علامت تھی تو سخی لوگ اپنی آگ دیر تک روشن رکھتے تاکہ کوئی مسافر وغیر ہ آئے اور ہم اس کی مہمان نوازی کرکے خوشی کی دولت اور سکون قلب حاصل کریں، لیکن کنجوس لوگ جلد ہی آگ بجھادیتے تھے کہ کہیں کوئی مسافر نہ آجائے ۔
حل لغات :
     اُخْمِدَتْ:(افعال)اَخْمَدَ الرجلُ:
خاموش وپر سکون ہونا،ٹھنڈاہونا ،کسی بات پر جم جانا، النارَ:آگ کی آنچ کم کرنا، ٹھنڈا کرنا، بجھانا۔
فی القران المجید:
 (إِن کَانَتْ إِلاَّ صَیْحَۃً وَاحِدَۃً فَإِذَا ھُمْ خَامِدُون) (36/29)
طَارِقٌ:رات کوآنے والا،دروازہ کھٹکھٹانے والا ، کنکریوں سے منتر کرنے والا، روشن ستارہ، رات کو پیش آنے والا معاملہ یا حادثہ ۔ ج:ذوی العقول کے لئے طُرَّاقٌ،غیر ذوی العقول کے لئے
طَوَارِقُ۔ ذَمَّ:فلانًا(ن)ذَمًّا:
برائی کرنا، عیب لگانا۔ نَزِیْلٌ:مہمان ، وطنی بھائی، مکان میں ساتھ رہنے والا۔ج:نُزَلاءُ۔
18۔۔۔۔۔۔

     واَیَّامُنَا مَشْھُوْرَ ۃٌ فِیْ عَدُوِّنَا           لَھَا غُرَرٌ مَعْلُوْمَۃٌ وجُحُوْل،
Flag Counter