ج:اَوْقاتٌ۔اَلْبُطُوْنُ:مف:اَلبَطَنُ:
(فَمَالِؤُونَ مِنْہَا الْبُطُونَ) (56/53)
ہر چیز کا اند رونی حصہ، ایک دفعہ کی اولاد یا پیداوار۔
''اَلْبِطْنَۃُ تَأْ فِنُ الفِطْنَۃَ''۔
زیادہ کھانا ذہانت کو ختم کردیتاہے ، یعنی مال ودولت نے عقل خراب کردی ہے۔
14۔۔۔۔۔۔
فَنَحْنُ کَمَاءِ الْمُزْنِ مافِیْ نِصَابِنَا کَھَامٌ ولا فِیْنَا یُعَدُّ بَخِیْل،
ترجمہ:
اس لئےہم با دل کے پانی کی طرح صاف شفاف ہیں ہمارے نسب میں کوئی بزدل نہیں اور نہ ہی ہم میں کوئی کنجوس شمار کیا جاتاہے۔
مطلب:
جس طرح بارش کا پانی صاف شفاف ہوتاہے اسی طرح ہمارا نسب بھی صاف شفاف ہے، یعنی ہمارے آباء واجداد نے خصو صی طوپر نسب کی حفاظت کی ہے اسی وجہ سے ہمارے خا ندان میں نہ کوئی بزدل ہے اور نہ ہی کنجوس۔
حل لغات:
اَلمُزْنُ: پانی سے بھرا ہوا بادل ۔
(ءَاَنۡتُمْ اَنۡزَلْتُمُوۡہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنۡزِلُوۡنَ) (56/69)
نِصَابٌ:اصل،مرجع،اصلی حالت،چھری یاچاقو کا دستہ، کسی کے پاس مال کی اتنی مقدار جس پر زکوۃ واجب ہو۔ ج:نُصبٌ۔کَھَامٌ:کند(تلوار)،بند یا کلام سےیا عاجز، بزدل و کم ہمت، عمررسیدہ، مفلس۔ بَخِیْلٌ: کنجوس ہونا۔ج:بُخَلاءُ
15۔۔۔۔۔۔
ونُنْکِرُ اِنْ شِئْنَا عَلَی النَّاسِ قَوْلَھُم وَلَاْ یُنْکِرُوْنَ القَوْلَ حِیْنَ نَقُوْلُ
ترجمہ :
اگر ہم چاہیں تو لوگوں کی بات کا انکار کردیں لیکن جب ہم بات کریں تو وہ ہماری بات کاانکار نہیں کرسکتے۔
مطلب:
ہم معزز اور سردار ہیں لہذا ہماری بات یا فیصلہ کوئی رد نہیں کرسکتا اور یہ ان کے ہاں قابل فخر بات تھی۔
نُنْکِرُ:(افعال)اَنْکَرَالشیئَ:
کسی چیز کو نہ پہچاننا، ناواقف ہونا۔