(مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللہِ زُلْفَی) (39/3)
فی الحد یث:((مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطیٰ لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ اِیْمانَہ،))۔
جس نے اللہ تعالی کیلئے دوستی کی اور اللہ تعالی کیلئے دشمنی کی اور اللہ تعالی کیلئے دیا اور اللہ تعالی ہی کیلئے منع کیا تواس نے اپنا ایمان کامل بنادیا۔
(کتاب الایمان ص 14مشکوٰۃ المصابیح )
(وانہ لحب الخیر لشدید) (100/8)
''احَبُّ شیءٍ الی الانسانِ مامُنِعَ''۔
انسان کو سب سے زیادہ محبوب چیز وہ معلوم ہوتی ہے جس سے اس کو منع کیا جائے ۔
10۔۔۔۔۔۔
ومَامَاتَ مِنَّا سَیِّدٌ حَتْفَ اَنْفِہٖ ولاطُلَّ مِنَّا حَیْثُ کانَ قَتِیْل،
ترجمہ:
ہمارا کوئی بھی سردار طبعی موت نہیں مر تااورہمارے مقتول کا خون رائیگاں نہیں جاتا مقتول جہاں بھی ہو
مطلب:
ہمارے سردارصرف جنگ میں ہی مرتے ہیں اور ہمار کوئی بھی آدمی یا سردارقتل ہوجائے تو انتقام ضرور لیتے ہیں دشمن کہیں بھی ہو۔یہ دونوں باتیں ان کے ہاں باعث فخر تھیں۔
(وَالأَنفَ بِالأَنف) (5/45)
ج:اُنُو فُ، وآنافُ، واَنْفُ،۔حتف انفسہ:
کسی ضرب یا قتل وغیر ہ کے بغیر طبعی موت مرنا۔
''اَنْفُ، فی الماءِ واَسْتُ، فی السماءِ''۔
ناک پانی میں ڈوبی ہوئی ہے اور چو تڑ آسمان پر۔ کم رتبہ ، متکبرشخص یاکم ہمت شخص کے لئے بو لاجاتاہے۔
طُلَّ:طَلَّ دمُ القَتِیلِ(ض)طَلًّا:
مقتول کاخون رائیگاں جانااور اس کی دیت نہ لیا جانا،بدلہ لئے بغیر چھوڑ دینا۔اَلطَّلُ:ہلکی بارش،شبنم۔
(فَإِن لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ) (2/265)،