رہتے۔ ان کی مسلسل انفرادی کوشش رنگ لائی اور ولیٔ کامل کے ایمان افروز واقعات پڑھ پڑھ کر میں نے گناہوں سے توبہ کی اور اجتماع میں شرکت کا پابند بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یوں آہستہ آہستہ سنتوں بھری زندگی اختیار کر کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{14}شب برأت کا اجتماع ذکرونعت
ڈیرہ اللہ یار (بلوچستان) میں رہائش پذیر ایک اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے مدنی انقلاب کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ :۱۴۲۰ ھ بمطابق 1999ء کی بات ہے جب میں چھٹی کلاس کا طالب علم تھا۔ ایک روز ہمارے محلے میں چند مبلغین دعوتِ اسلامی آئے اور لوگوں کو شب برأت کے اجتماع کی دعوت دینے لگے۔ اُن دنوں دعوتِ اسلامی کے زیراہتمام شب برأت کا اجتماع ذکر و نعت ہمارے شہر میں نہیں ہوتا تھا بلکہ عطار آباد (جیک آباد) میں ہوتا تھا۔ میں نے ان کی دعوت قبول کی اور اجتماع میں شرکت کی سعادتیں پانے کے لیے ان کے ساتھ چل پڑا۔ اجتماع میں جا کر تو میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی، وہاں ہونے والے پرسوزبیان اور رقت انگیز دعا سن کر میں بہت متأثر ہوا اور