Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
83 - 84
سے شِیرینی بھیجنے کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: غیر مسلِم کو مالِ وَقف سے(شیرینی) بھیجنا تو کسی طرح جائز نہیں کہ وَقف کارِ خیر کیلئے ہوتا ہے اور غیر مسلم کو دیناکچھ ثواب نہیں۔ کَمَا فِی الْبَحْرِ الرَّائِق وغیرہ (یعنی جیسا کہ بَحْرُ الرَّائِق وغیرہ میں ہے ) حضرتِ سیِّدُناجابِر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سردارِ مکّۂ مکرَّ مہ، سرکارِ مدینۂ منوّرہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشادِ فرمایا :'' اگر وہ بیمار پڑیں تو پو چھنے نہ جاؤ ،مر جائیں تو جنازے میں حاضر نہ ہو ۔ ''  (سنن ابن ماجہ ج1ص70 حدیث92 دارالمعرفۃ بيروت)
چندہ کاروبار میں لگانا کیسا؟
سُوال:    مسجِد یا کسی مذہبی یاسَماجی اِدارے کا چندہ کثیر مقدار میں جمع ہو گیا ہو تو کیا اُسے کاروبار میں لگا سکتے ہیں؟
جواب: خواہ کیسا ہی نَفْع بَخش کاروبار ہو،نہیں لگا سکتے ۔ چاہے اُس کی آمدنی اُسی ادارے کے لئے استِعمال کرنے کی نیّت ہو۔ہاں اگرچندہ دینے والے نے صَراحَۃً ( یعنی صاف لفظوں میں) اجازت دیدی ہو تو صِرف اُس کی رقم جائزکاروبار میں لگائی جا سکتی ہے۔اِس ضِمن میں''فتاوٰی رضویہ شریف' ' کا ایک اقِتِباس مُلا حَظہ فرمایئے، چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter