جواب: اِس میں زکوٰۃ کے صحیح استِعمال میں دشواریاں ہیں مَثَلاً اگر ادارے والوں نے زکوٰۃ کی رقم وُصول کی تو تملیک (یعنی حقدار کو اُس رقم کا مالک بناناہو گا اِس)سے پہلے دوائیں وغیرہ نہیں خرید سکتے۔ البتّہ کسی نے رقم لا کردی کہ اس سے دوائیں خرید کر زکوٰۃ کے طور پرمُسْتَحِق مریضوں کو دیدینا تو یہ ابتداء ًدوائیں خریدنے کا وکیل بنانا اور اس کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا ہوا۔ لیکن دواؤں کی صورت میں زکوٰۃ کی رقم رکھی رہنے اور ادائیگی میں تاخیر ہونے کا اندیشہ ہے نیز زکوٰۃ کی رقم سے ڈاکٹروں اوردیگر عملے کو تنخواہیں،جگہ کا کرایہ اور بجلی کا بِل وغیرہ نہیں دے سکتے۔