Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
81 - 84
سماجی ادارے کے اَسپتال میں زکٰوۃ کا استِعمال کرنا کیسا؟
سُوال: سماجی ادارے کے اَسپتال میں زکوٰۃ استِعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: اِس میں زکوٰۃ کے صحیح استِعمال میں دشواریاں ہیں مَثَلاً اگر ادارے والوں نے زکوٰۃ کی رقم وُصول کی تو تملیک (یعنی حقدار کو اُس رقم کا مالک بناناہو گا اِس)سے پہلے دوائیں وغیرہ نہیں خرید سکتے۔ البتّہ کسی نے رقم لا کردی کہ اس سے دوائیں خرید کر زکوٰۃ کے طور پرمُسْتَحِق مریضوں کو دیدینا تو یہ ابتداء ًدوائیں خریدنے کا وکیل بنانا اور اس کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا ہوا۔ لیکن دواؤں کی صورت میں زکوٰۃ کی رقم رکھی رہنے اور ادائیگی میں تاخیر ہونے کا اندیشہ ہے نیز زکوٰۃ کی رقم سے ڈاکٹروں اوردیگر عملے کو تنخواہیں،جگہ کا کرایہ اور بجلی کا بِل وغیرہ نہیں دے سکتے۔
فَلاحی اِداروں کیلئے زکٰوۃ کے استِعمال کا طریقہ
سُوال: سَماجی اداروں کے اَسپتالوں میں اور دیگر فلاحی کاموں میں زکوٰۃ و فطرہ کے استِعمال کا مُناسِب طریقہ کیا ہے؟
جواب: تعمیرات، مُشاہَرات (یعنی تنخواہوں ) اور کِرایوں وغیرہ میں زکوٰۃ ، فِطرہ اور واجِب صَدَقات استِعمال نہیں کئے جا سکتے۔ ان میں حقدار کو مالِک بنانا شَرط ہے، یہاں تک کہ کسی مُسْتَحِقّ مریض کا علاج بھی کرنا ہو تو زکوٰۃ کی
Flag Counter