| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
جواب: وکیل کو کہنے کے مُحتاط الفاظ یہ ہیں،'' آپ میرے لئے جو بھی زکوٰۃ فِطرہ وُصول کریں اُسے دعوتِ اسلامی (یا فُلاں فرد یا ادارے) کو یہ کہہ کر دے دیجئے کہ یہ رقم دعوتِ اسلامی (یا فُلاں فرد یا ادارہ ) جہاں مناسِب سمجھے نیک و جائز کام میں خرچ کرے۔''
کُفّار کی امداد کرنا کیسا؟
سُوال: کیا چندے میں اِس طرح کے کلّی اختیارات لے لینے سے اب سماجی ادارے والے کسی کافِر یا مُرتد کو دواء فراہم کر سکتے یا اس کی مالی امداد بھی کر سکتے ہیں؟
جواب:نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ '' نیک اور جائز کام'' کی اجازت لی ہے اور کافِر و مُرتَد کی مالی امداد یا اُ س کی دواء پر رقم خرچ کرنا '' نیک اور جائز کام'' نہیں۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: غیر مسلِم کو مالِ وَقف سے بھیجنا تو کسی طرح جائز نہیں کہ وَقف کارِ خیر کیلئے ہوتا ہے اور غیر مسلم کو دیناکچھ ثواب نہیں۔ کَمَا فِی الْبَحْرِ الرَّائِق وغیرہ (یعنی جیسا کہ اَلْبَحْرُ الرَّائِق وغیرہ میں ہے) (فتاویٰ رضویہ ج 16 ص226)