وُسعت نہیں دیکھتے تو بِحَمدِ اللہ وہ تدبیر ممکن ہے کہ زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہو اور خدمتِ سادات بھی بجا ہو یعنی کسی مسلمان مَصْرَفِ زکوٰۃ مُعْتَمَد عَلیہ ( یعنی کسی قابلِ اعتماد فقیرِ شرعی ) کو کہ اس کی بات سے نہ پِھرے ، مالِ زکوٰۃ سے کچھ روپے بہ نیّتِ زکوٰۃ دے کر مالِک کر دے ، پھر اُس سے کہے :''تم اپنی طرف سے فُلاں سیِّد کی نَذر کردو ''اِس میں دونوں مقصود حاصِل ہو جائیں گے کہ زکوٰۃ تو اِس فقیر کو گئی اور یہ جو سیِّدنے پایا نَذرانہ تھا، اس کا فرض ادا ہو گیا اور خدمتِ سیِّدکا کامِل ثواب اسے اور فقیر دونوں کو مِلا۔
( فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج 10 ص 105 تا 106)