Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
79 - 84
وُسعت نہیں دیکھتے تو بِحَمدِ اللہ وہ تدبیر ممکن ہے کہ زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہو اور خدمتِ سادات بھی بجا ہو یعنی کسی مسلمان مَصْرَفِ زکوٰۃ مُعْتَمَد عَلیہ ( یعنی کسی قابلِ اعتماد فقیرِ شرعی ) کو کہ اس کی بات سے نہ پِھرے ، مالِ زکوٰۃ سے کچھ روپے بہ نیّتِ زکوٰۃ دے کر مالِک کر دے ، پھر اُس سے کہے :''تم اپنی طرف سے فُلاں سیِّد کی نَذر کردو ''اِس میں دونوں مقصود حاصِل ہو جائیں گے کہ زکوٰۃ تو اِس فقیر کو گئی اور یہ جو سیِّدنے پایا نَذرانہ تھا، اس کا فرض ادا ہو گیا اور خدمتِ سیِّدکا کامِل ثواب اسے اور فقیر دونوں کو مِلا۔

             ( فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج 10 ص 105 تا 106)
حِیلے کے بعد رقم لوٹانے کے مُحتاط اَلفاظ
سُوال: چندہ دیتے یا حِیلے میں رقم لوٹاتے وَقت دینی یا سماجی کام کیلئے کُلّی اختیارات دینے کے مُحتاط الفاظ بتا دیجئے۔
جواب: (زکوٰۃ فطرہ وغیرہ صَدَقاتِ واجبہ کے علاوہ)نفلی چندہ دیتے یا حیلے میں رقم لوٹاتے وَقت دینے والا یہ کہے ،'' یہ رقم دعوتِ اسلامی (یا یہ ادارہ ) جہاں مناسِب سمجھے وہاں نیک و جائز کام میں خَرچ کرے۔''
زکٰوۃ کے وکیل کیلئے مُحتاط اَلفاظ
سُوال: شَرعی فقیر اپنے وکیل کوزکوٰۃ فطرہ لیکر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں
Flag Counter