اللہُ اکبر، اللہ اکبر! قیامت کا دن، وہ قیامت کا دن ، وہ سخت ضَرورت سخت حاجت کا دن ، اور ہم جیسے محتاج ، اورصِلہ عطا فرمانے کو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ساصاحِبُ التّاج، خداجانے کیا کچھ دیں اور کیسا کچھ نِہال فرما دیں،ایک نگاہِ لطُف اُن کی جُملہ مُہِمّاتِ دو جہاں کو( یعنی دونوں جہاں کی تمام مشکلات کے حل کیلئے)بس ہے، بلکہ خود یہی صِلہ (بدلہ ) کروڑوں صلے( بدلوں) سے اعلیٰ و اَنفس(یعنی نفیس ترین) ہے، جس کی طرف کلمۂ کریمہ، اِذَا لَقِینِی ( جب وہ روزِ قِیامت مجھ سے ملے گا ) اشارہ فرماتا ہے، بَلَفْظِ اِذا تعبیر فرمانا(یعنی'' جب'' کا لفظ کہنا) بِحَمدِ اللہ روزِ قِیامت وعدۂ وِصال و دیدارِ محبوبِ ذی الجلال کا مُثردہ سُناتا ہے ۔ (گویا سیّدوں کے ساتھ بھلائی کرنے والوں کو قیامت کے روز تاجدارِرسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت و ملاقات کی بشارت ہے) مسلمانو! اور کیا درکار ہے ؟ دوڑو اور اِس دولت و سعادت کو لو۔ وَ بِاللہِ التَّوفِیق۔