نہ کریں تو ان (مالداروں)کی (اپنی)بے سعادَتی ہے ، وہ وَقت یاد کریں جب ان حضرات( ساداتِ کرام) کے جَدِّاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سوا ظاہِری آنکھوں کو بھی کوئی مَلجا ومَاوا ( یعنی پناہ کا ٹھکانہ) نہ ملے گا ، کیا پسند نہیں آتا کہ وہ مال جو انھیں کے صدقے میں اُنھیں کی سرکار سے عطاہوا ، جسے عنقریب چھوڑ کر پھروَیسے ہی خالی ہاتھ زَیرِزمین(یعنی قبر میں) جانے والے ہیں، اُن کی خُوشنودی کے لیے اُن کے پاک مبارَک بیٹوں (یعنی سیِّدوں) پر اُس کا ایک حصّہ صَرف کیا کریں کہ اُس سخت حاجت کے دن (یعنی بروزِ قیامت ) اُس جوّاد کریم، ر ء ُ وفٌ رَّحیم کے بھاری اِنعاموں ، عظیم اِکراموں سے مُشرَّف ہوں۔