Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
77 - 84
نہ کریں تو ان (مالداروں)کی (اپنی)بے سعادَتی ہے ، وہ وَقت یاد کریں جب ان حضرات( ساداتِ کرام) کے جَدِّاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سوا ظاہِری آنکھوں کو بھی کوئی مَلجا ومَاوا ( یعنی پناہ کا ٹھکانہ) نہ ملے گا ، کیا پسند نہیں آتا کہ وہ مال جو انھیں کے صدقے میں اُنھیں کی سرکار سے عطاہوا ، جسے عنقریب چھوڑ کر پھروَیسے ہی خالی ہاتھ زَیرِزمین(یعنی قبر میں) جانے والے ہیں، اُن کی خُوشنودی کے لیے اُن کے پاک مبارَک بیٹوں (یعنی سیِّدوں) پر اُس کا ایک حصّہ صَرف کیا کریں کہ اُس سخت حاجت کے دن (یعنی بروزِ قیامت ) اُس جوّاد کریم، ر ء ُ وفٌ رَّحیم کے بھاری اِنعاموں ، عظیم اِکراموں سے مُشرَّف ہوں۔
سیِّد کے ساتھ بھلائی کرنے کا عظیم صِلہ
     ابنِ عساکِر امیرُالْمُؤمِنِین مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ، سے راوی، رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:جو میرے اہلِ بیت میں سے کسی کے ساتھ اچّھا سلوک کریگا میں روزِ قیامت اس کا صِلہ اسے عطا فرماؤں گا۔ (الْجَامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ص 533 حدیث 8821 )امیرُالْمُؤمِنِین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی، رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: جو شخص اولادِ عبدُالمطّلِب میں کسی کے ساتھ دنیا میں نیکی کرے اس کا صِلہ دینا میں مجھ پر لازم ہے جب وہ روزِ
Flag Counter