سُوال: اگر سیِّد غریب ہو تو اُس کو زکوٰۃ کی حیلہ شدہ رقم دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: دے تو سکتے ہیں مگر افضل یہی ہے کہ بغیر حیلہ کے اپنی جیبِ خاص سے رقم نذر کی جائے۔ افسوس صد کروڑ افسوس! اپنی اولاد کو تو ہم دنیا کی ہر آسائش دینے کیلئے تیّار رہیں اور اولادِ سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یعنی سادات کی خدمات کیلئے ایک رُوپلّی بھی جیبِ خاص سے حاضِر کرنے سے کترائیں ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ ا مام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: رہا یہ کہ پھر اِس زمانۂ پُر آشوب میں حضراتِ ساداتِ کرام کی مواسات ( یعنی امداد و غم خواری) کیونکر ہو۔ اَقُول(یعنی میں کہتا ہوں) بڑے مال والے اگر اپنے خالص مالوں سے بطورِ ہَدِیّہ(ہَ۔دِی۔یہ) ان حضراتِ عُلیا(یعنی بُلند مرتبہ صاحبان)کی خدمت