Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
75 - 84
 لیکن وہ مدارِسِ اسلامیہ جن میں خالِص اسلامی تعلیم ہوتی ہے دین کی بقا کے لئے ان میں ضَرورۃً حِیلے کے بعد صَرف کرنے کی اجازت دی گئی ۔ مگر اب لوگ دُنیاوی اسکول اور کالج جن میں برائے نام دینی تعلیم ہوتی ہے زکوٰۃ و صَدَقاتِ واجِبہ کی رقم حِیلۂ شرعی سے خرچ کر کے غُرباء مساکین کی حق تلفی کرتے ہیں جو سرا سرغَلَط ہے۔''میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: اَغنیائے کثیرُ المال (یعنی بڑے سرمایہ داروں کوچاہئے کہ) شکرِ نعمت بجا لائیں ، ہزاروں رُوپے فُضول خواہِش یا دُنیوی آسائش یا ظاہِری آرائش میں اُٹھانے والے( یعنی کثیر رقم فُضول خرچیوں اور آسائشوں میں اُڑانے والے) مَصارفِ خیر ( یعنی بھلائی کے کاموں )میں حِیلوں کی آڑ نہ لیں،مُتَوَسِّطُ الحال،(مُ۔تَ۔وَسْ۔سِطُ۔الحال) یعنی درمیانے دَرَجے کے صاحبِ حیثیت حضرات) بھی ایسی ضَرورَتوں کی غَرَض سے خالِص خُدا ہی کے کام میں صَرف کرنے پر اقدام کریں۔نہ یہ کہ مَعاذَاللہ اُن کے ذَرِیعے سے ادائے زکوٰۃ کانام کر کے روپیہ اپنے خُردبُرد میں لائیں کہ یہ اَمر مقاصدِ شَرع کے بالکل خلاف اور اس میں اِیجابِ زکوٰۃ (یعنی زکوٰۃ کوواجب کرنے)کی حکمتوں کا یکسر اِبطال (یعنی سرا سر باطل کردینا یا ختم کر دینا)ہے تو گویا اِس کا بَرَتنا(یعنی استعمال کرنا) اپنے