جواب: زکوٰۃ تو ادا ہو جاتی ہے مگراِس طرح بانٹنا اور بالخصوص عُلَماء و مشائخ کو حیلہ شدہ رقم سے نذرانے دینا کسی طرح مناسِب نہیں۔ فتاویٰ فقیہِ ملّت جلد اوّل صَفْحَہ308 پر حضرتِ فقیہِ مِلّت مفتی جلالُ الدّین احمد امجدی علیہ رحمۃ القوی کے مُصَدَّقہ(تصدیق کردہ) فتوے کا اِقتِباس مُلاحَظہ ہو۔ ''زکوٰۃ و صَدَقۂ فِطر کے اصل مُستَحِقِین غُربا و مساکین ہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ
ترجَمۂ کنزالایمان: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کیلئے ہے جو محتاج اورنِرے نادار ہوں ۔اِلخ۔
( پ 10 توبہ 60)