Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
74 - 84
سنّتوں بھرے اجتماعات اور دینی کتابوں کی اشاعت و تقسیم وغیرہ میں استِعمال کرنا کیسا؟
جواب: جائز ہے۔
کیا حیلے کی رقم سے تحفہ یا نذرانہ دے سکتے ہیں؟
سُوال:     بعض لوگ زکوٰۃ کی رقم کا حِیلہ کر کے اپنے پاس محفوظ رکھ لیتے ہیں پھر اُس رقم سے بِلا امتیازِ امیر و غریب ہر ایک کو تحائف وغیرہ تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُسی حیلہ شدہ رقم سے عُلَماء و مشائخ کو نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں!کیا اِس طرح زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے؟
جواب: زکوٰۃ تو ادا ہو جاتی ہے مگراِس طرح بانٹنا اور بالخصوص عُلَماء و مشائخ کو حیلہ شدہ رقم سے نذرانے دینا کسی طرح مناسِب نہیں۔ فتاویٰ فقیہِ ملّت جلد اوّل صَفْحَہ308 پر حضرتِ فقیہِ مِلّت مفتی جلالُ الدّین احمد امجدی علیہ رحمۃ القوی کے مُصَدَّقہ(تصدیق کردہ) فتوے کا اِقتِباس مُلاحَظہ ہو۔ ''زکوٰۃ و صَدَقۂ فِطر کے اصل مُستَحِقِین غُربا و مساکین ہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ
ترجَمۂ کنزالایمان: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کیلئے ہے جو محتاج اورنِرے نادار ہوں ۔اِلخ۔

( پ 10 توبہ 60)
Flag Counter