| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
جواب: جی نہيں۔چونکہ چیک کے ذَرِیعے زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی۔لہٰذا چیک کے ذریعے زکوٰۃ کا حیلہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
بَہُت بڑی رقم کا حیلہ کیسے ہو!
سُوال: بينک سے بڑی رقم نکلوانے اور پھر شَرعی فقير کے قبضے ميں دينے پھر اس سے لے کر دوبارہ بينک ميں جمع کروانے ميں حَرَج ہوتا ہے کوئی آسان حل ارشاد فرماديجئے۔
جواب: شَرعی فقير اپنے نام سے بينک ميں صرف اِتنی رقم کا اَکاؤنٹ(ACCOUNT)کُھلوالے کہ وہ شَرعی فقير رہے پھر جتنی رقم زکوٰۃ کی مَدّ ميں اسے دينی ہے اسے بتا کر اس کے اَکاؤنٹ ميں جمع کروادی جائے۔جب وہ رقم اس کے اَکاؤنٹ ميں جمع ہوگئی تو زکوٰۃ ادا ہوگئی۔ اب جس کام کیلئے حیلہ کیا ہے وہ اس کیلئے دیدے۔اس کی تفصيل پہلے بيان ہوچکی۔یاد رہے! صرف وُہی اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے جس پر سود نہیں بنتا مَثَلاً کرنٹ اَکاؤنٹ(CURRENT ACCOUNT)پر سود نہیں ملتا جبکہ سیونگ اَکاؤنٹ(SAVING ACCOUNT)پرسودملتا ہے ۔
حِیلے کی رقم دینی کاموں میں خَرچ کرنا کیسا؟
سُوال:زکوٰۃ فِطرے کا حیلہ کر کے اُس رقم کو تبلیغِ دین کے کاموں مَثَلاً مدارِس،