| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
جواب: کسی فقيرِ شَرعی کويا اس کے وکيل کو مالِ زکوٰۃ وفِطرہ کا مالِک بنا ديا جائے مَثَلاً اُس کو نوٹوں کی گڈّی یہ کہہ کر دیدی کہ یہ آپ کی مِلک ہے، وہ اُس کو ہاتھ میں لیکر یا کسی طرح قبضہ کر لے اب یہ اِس کا مالِک ہو گیا اور کسی بھی کام (مَثَلاًمسجِدکی تعمير وغيرہ) ميں صَرف کردے۔ يوں زکوٰۃ ادا ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ثواب کے بھی حقدار ہوں گے۔ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔
فقیر کے وکیل سے کیا مُراد ہے؟
سُوال :آپ نے کہا ،''شَرعی فقير يا اس کے وکيل ''يہاں وکيل سے کيا مُراد ہے ؟
جواب: اِس سے مُراد وہ شخص ہے جسے شَرعی فقير نے اپنی زکوٰۃ وُصُول کرنے کی اجازت دی ہو يا اس نے خود اس سے اجازت لی ہو ۔
کیا وکیل زکٰوۃ پر قبضہ کرنے کے بعد خرچ کر سکتا ہے؟
سُوال :تو کيا وکيل بھی مالِ زکوٰۃ پر قبضہ کرنے کے بعد اسے کسی بھی کام ميں صَرف کرنے کا اختيار رکھتا ہے ؟
جواب: نہيں ۔البتّہ اگر اسے فقير نے اجازت دی ہو يا اس نے خود اجازت لی ہو تو کرسکتا ہے ۔
وکیل کا قبضہ مُوَکِّل ہی کا قبضہ کہلائے گا
سُوال :فقير شَرعی نے وکيل کواپنی زکوٰۃ کسی بھی کام میں صَرف کرنے کی اجازت دی