| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
و السلام کوحضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت ميں بھيجا کہ ان ميں صُلح کروا ديں ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: '' مَاحِيلَۃُ يَمِيْنِی؟ '' يعنی ميری قسم کا کيا حِيلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر وَحی نازِل ہوئی کہ (حضرتِ)سارہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کو حکم دو کہ وہ (حضرتِ) ہاجَرہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کے کان چَھيد ديں ۔ اُسی وَقْت سے عورَتوں کے کان چَھيدنے کا رَواج پڑا۔ ( غمزعيون البصائر شرح الَاشباہ والنظائرج3ص295)
گائے کے گوشت کاتحفہ
اُمُّ الْمُؤْمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے رِوایت ہے کہ دو 2 جہاں کے سلطان ، سرورِ ذیشان ،مَحبوبِ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ و سلَّم کی خدمت میں گائے کا گوشت(تحفۃً) حاضِر کیا گیا ،کسی نے عَرض کی: یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنابَرِيرَہ (بَ۔رِی۔رَہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر صَدَقہ ہوا تھا ۔ فرمایا :
ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَّلَنَا ھَدِیَّۃٌ۔
یعنی یہ بَرِيرَہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے۔ (صحیح مسلم ص 541حديث 1075 )
زکوٰۃ کا شَرعی حِيلہ
اِس حدیثِ پاک سے صاف ظاہِر ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرَہ رضی اللہ تعالیٰ