عنہا جو کہ صَدَقے کی حقدارتھیں ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہوا گائے کا گوشت اگر چِہ ان کے حق میں صَدَقہ ہی تھا مگر ان کے قَبضہ کر لینے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ صَدَقہ نہ رہا تھا ۔ یوں ہی کوئی مُسْتَحِقّ شَخص زکوٰۃ اپنے قَبضے میں لے لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے سکتا یا مسجِد وغیرہ کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ مذکورہ مُسْتَحِقّ شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ، ھَدِیَّہ یا عَطِیَّہ ہو گیا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السلام زکوٰۃ کا شَرعی حِیلہ کرنے کا طریقہ یوں ارشاد فرماتے ہیں:زکوٰۃ کی رقم مرُدے کی تَجہيز وتکفين يا مسجِدکی تعمير ميں صَرف نہيں کر سکتے کہ تَملِيكِ فقير ( یعنی فقیر کو مالِک کرنا)نہ پائی گئی ،اگر ان اُمور ميں خَرچ کرنا چاہيں تو اِس کا طریقہ يہ ہے کہ فقير کو (زکوٰۃ کی رقم کا ) مالِک کرديں اور وہ ( تعميرِ مسجِد وغيرہ ميں )صَرف کرے، اس طرح ثو اب دونوں کو ہو گا ۔ (بہارِ شريعت حصّہ5ص25)