Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
66 - 84
    '' عالمگيری '' ميں حِيلوں کاايک مُستقِل باب ہے جس کا نام ''کتابُ الحِیَل'' ہے چُنانچِہ '' عالمگيری کتابُ الحِیَل'' ميں ہے،'' جو حِيلہ کسی کا حق مارنے يا اس ميں شُبہ پيدا کرنے يا باطِل سے فَريب دينے کیلئے کيا جائے وہ مکروہ ہے اور جوحِيلہ اِس لئے کيا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے يا حلال کو حاصِل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حِيلوں کے جائز ہونے کی دليل  اللہ عزوجل کا يہ  فر مان ہے :
 وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ
(پارہ 23'صۤ 44)
ترجَمۂ کنزالايمان : اور فرماياکہ اپنے ہاتھ ميں ايک جھاڑو لےکر اس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔

                 (فتاویٰ عالمگيری ج6ص390)
کان چَھيد نے کا رَواج کب سے ہوا؟
    حِیلے کے جَواز پر ایک اور دلیل مُلا حَظہ فرمایئے چُنانچِہ حضرتِ سيِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روايت ہے کہ ايک بارحضرتِ سیِّدَتُناسارہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا ہاجَرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ميں کچھ چَپقَلِش ہو گئی ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو ميں ہا جَرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کوئی عُضو کاٹوں گی ۔  اللہ عزوجل نے حضرتِ سیِّدُنا جبر ئيل عليہ الصلوٰۃُ
Flag Counter