جواب: حِيلَۂ شَرعی کا جواز قرآن و حديث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب ميں موجود ہے۔ چُنانچہِ حضرتِ سيِّدُنا ايّوب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی بيماری کے زَمانے ميں آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی زَوجۂ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاايک بار خدمتِ سراپا عظمت ميں تاخير سے حاضِر ہوئيں تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے قسم کھائی کہ ''ميں تندُرُست ہو کر سو100 کوڑے ماروں گا'' صِحّتياب ہونے پراللہ عزوجل نے انہيں سو100 تيليوں کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔(نور العرفان ص 728 ملخّصا) اللہ تبارَکَ وَ تَعالیٰ پارہ 23 سورۂ صۤ کی آیت نمبر44میں ارشاد فرماتا ہے: