کرنے کی حاجت نہیں ہوتی۔چُنانچِہ ایسا چندہ یا قربانی کی کھال لیتے وقت مُحتاط الفاظ یہ ہیں:''آپ اجازت دیدیجئے کہ آپ کا چندہ یا قربانی کی کھال دعوتِ اسلامی جہاں مناسِب سمجھے وہاں نیک وجائز کام میں خرچ کرے ۔''یہ الفاظ سُن کر دینے والا '' ہاں '' کہہ دے یا کسی طرح بھی آپ کی بات سے مُتَّفِق ہو جائے تو اب ہر طرح کے نیک و جائز کام میں استعمال کرنے کی شرعاً اجازت مل جائیگی اور یوں کافی سہولت رہے گی۔ (یاد رہے! چندہ یا کھال کے مالِک کی اجازت ہی دُرُست مانی جائے گی وہاں موجود کسی اور شخص یا بچّے کا سر ہِلا دینا کافی نہیں بلکہ''وکیل'' یا نمائندے کی اپنی مرضی سے دی ہوئی اجازت بھی (کئی صورتوں میں)ناکافی ہوگی اُسے چاہئے کہ اپنے '' مُوَکِّل'' (یعنی جس نے ا ِس کو وکیل یعنی نمائندہ کیا ہے اس )سے صَراحَۃًیعنی کھلے الفاظ میں اِس کی اجازت لائے یافون پر ہاتھوں ہاتھ بات کرلے یاکروا دے) بہتر یہ ہے کہ مذکورہ محتاط الفاظ والا جُملہ رسید پر لکھ دیا جائے مگر جو شخص چندہ یا کھال دے اُس کو ہاتھوں ہاتھ پڑھا یا یا پڑھ کر سنادیا جائے۔ صرف رسید دیکر دل کو نہ منالیا جائے کہ ہم نے اجازت لے لی ہے، کیوں کہ یہاں معاملہ مجہول ہے وہ اردو پڑھنا نہ جانتا ہو، یا مذکورہ عبارت نہ پڑھے یا پڑھ کر سمجھ نہ پائے ، یا رسید ہی فوراً گم ہو جائے یا پڑھ کر اتِّفاق نہ کرے کوئی بھی