جواب:زکوٰۃ ، فِطرہ ، جو کہ صَدَقاتِ واجِبہ میں سے ہیں ان میں کُلّی اختیارات لینے کی حاجت نہیں کیوں کہ ان میں مستحق کو مالِک بنانا شَرط ہے۔ لوگ اگر چِہ زکوٰۃ یا فطرہ بظاہِر دعوتِ اسلامی کو دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ دعوتِ اسلامی والوں کواپنی زکوٰۃ یا فطرے کواُس کے صحیح مَصرف میں استِعمال کرنے کیلئے '' وکیل'' بناتے ہیں ۔ لہٰذا دعوتِ اسلامی میں پہلے اِس کا شَرعی حِیلہ کیا جاتا ہے پھر اِس کو مختلف نیک اور جائز کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے۔ صَدَقاتِ واجِبہ کے علاوہ قربانی کی کھالیں یا جوعام چندہ دیا جاتا ہے ان کو صدقاتِ نافِلہ ( یعنی نفلی صدقے ) کہتے ہیں۔ان کا شرعی حیلہ