Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
63 - 84
جواب:نہیں کر سکتے۔ چندہ یااس کھال سے ملنے والی رقم کو دعوتِ اسلامی کے طے شدہ طریقِ کارکے مطابِق ہی خَرچ کرنا ہو گا، اگرعُرف سے ہٹ کر کسی اور نیک کام میں خَرچ کر دیا تو تاوان ادا کرنا ہو گا یعنی جس کسی نے جتنی رقم خرچ کی وہ اُسے پلّے سے لوٹانی پڑے گی اور توبہ بھی کرنی ہو گی۔
کُلّی اختیارات کے مُحتاط الفاظ
سُوال:زکوٰۃ فِطرہ وغیرہ عَطِیّات لیتے وقت کس طرح کے الفاظ کہے جائیں جس سے ہر طرح کے نیک کام میں استِعمال کی اجازت ہو جائے۔
جواب:زکوٰۃ ، فِطرہ ، جو کہ صَدَقاتِ واجِبہ میں سے ہیں ان میں کُلّی اختیارات لینے کی حاجت نہیں کیوں کہ ان میں مستحق کو مالِک بنانا شَرط ہے۔ لوگ اگر چِہ زکوٰۃ یا فطرہ بظاہِر دعوتِ اسلامی کو دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ دعوتِ اسلامی والوں کواپنی زکوٰۃ یا فطرے کواُس کے صحیح مَصرف میں استِعمال کرنے کیلئے '' وکیل'' بناتے ہیں ۔ لہٰذا دعوتِ اسلامی میں پہلے اِس کا شَرعی حِیلہ کیا جاتا ہے پھر اِس کو مختلف نیک اور جائز کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے۔ صَدَقاتِ واجِبہ کے علاوہ قربانی کی کھالیں یا جوعام چندہ دیا جاتا ہے ان کو صدقاتِ نافِلہ     ( یعنی نفلی صدقے ) کہتے ہیں۔ان کا شرعی حیلہ
Flag Counter