جواب: اُس لکھائی کو اِس طرح صاف کرے کہ اُس چیز کو کسی طرح کانقصان نہ پہنچے ۔ مَثَلاً ممکن ہو تو پانی والے کپڑے سے آہِستہ آہِستہ مِٹائے ، اگر رنگ خراب ہو جائے یا دھبّہ پڑ جائے تو جو رنگ پہلے سے لگا ہوا ہے اُسی طرح کا رنگ اِس طرح لگائے کہ جونَقص یا بدنُمائی پیدا ہو گئی تھی وہ دُور ہوجائے ۔ توبہ بھی کرے۔اِزالہ کرنے سے قَبل ضَرورتاً مدرَسے کی انتِظامیہ یا اُس گھر یا دکان کے مالِک کو اعتِماد میں لے لے تا کہ کسی قسم کافساد وغیرہ نہ ہو۔ وَقف کے مقامات مَثَلاً مسجِد یا مدرَسے کی انتِظامیہ کامُعاف کر دینا کافی نہ ہوگا اِزالہ ضَروری ہے ۔ہاں اگر کسی کی ذاتی دیوار وغیرہ پر لکھا تھا،چاکنگ وغیرہ کی تھی تو اُس کا(چوکیدار یا ملازِم یا کرائے دار وغیرہ نہیں بلکہ اصل) مالِک اگر مُعافی دیدے تو اِزالے کی حاجت نہیں۔