جواب: جہاں جہاں مسجد یامدرسے میں سے بھر کر لے جانے کاعُرف ہے وہاں جائز اور جہاں عُرف نہیں وہاں ناجائز۔کہیں پانی و افِر(کثیر) مقدار میں ہو تا ہے اور لوگ بالٹیاں بھر بھر کر لے جاتے ہیں تو کہیں پانی کی کافی تنگی ہوتی ہے اور حالت یہ ہوتی ہے کہ کبھی موٹر بھی کام کرتی ہے توکبھی نہیں کرتی اورپیسے دیکر ٹینکر سے پانی منگوانا پڑتا ہے ایسی تنگی کی صورت میں صرف ایک آدھ بوتل بھرنے کی حد تک اجازت ہو سکتی ہے، اِس میں بھی وہاں کاعُرف دیکھا جائیگا اگر عُرف نہ ہوتو بوتل بھرکر بھی نہیں لے جاسکتے ۔ اگر انتِظامیہ نے صَراحَۃً لکھ کر لگا دیا ہے کہ '' پانی بھر کرلے جانا منع ہے'' تو اس صورت میں بھی پانی بھر کر نہ لے جائیں۔بَہَرحال پانی کی قِلَّت و کثرت کے مطابِق ہر عَلاقے کی مسجِد اور مدرَسے کا اپنااپناعُرف ہوتا ہے، اسی کے اعتبار سے جواز وعدمِ جواز(یعنی جائز و ناجائز ہونے) کا حکم ہو گا۔