| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
ضَرورتاً میزبانی کرنے والے بھی مہمانوں کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہوسکتے ہیں۔ خلافِ عُرف و عادت اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو ٹھہرانا،اور کھلانا پلانا روا (یعنی جائز )نہیں۔
غیرِ مُستَحِق نے مدرَسے کا کھانا کھا لیا تو ؟
سُوال: اگر مدرَسے کے طَلَبہ کا کھانا کسی غیر حقدار نے کھا لیا تو گناہ و تاوان کس پر؟
جواب:اگر مدرَسے کی اِنتِظامیہ کے مقرَّر کردہ ذِمّہ دار یا کھانا تقسیم کرنے والے نے جان بوجھ کر غیر حقدار کو خود کھانا دیا تو گنہگار ہواتوبہ بھی کرے اور تاوان بھی دے۔ اگر کھانے والے کو بھی پتا ہے کہ میں حقدار نہیں ہوں تو یہ بھی گنہگار ہے مگر اِس صورت میں اِس پر تاوان نہیں ،توبہ کرے ۔ اگر مدرَسے کا کھانا طلبہ میں بانٹا جارہا تھا اور اس میں کوئی غیر حقداربھی شریک ہوگیا تو اِس صورت میں تاوان کھانے والے پر ہوگا بانٹنے والے پر نہیں۔
مَسئَلہ معلوم نہ ہو اور کھا لیا تو؟
سُوال:اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو کیاپھر بھی جان بوجھ کر مدرسے کے طَلَبہ کاکھانا کھا لینا بصورتِ جہالت معصیَّت ہے؟
جواب:بعض صورَتوں میں معصیَّت ہے مَثَلاً مدرَسے کاکھانا ہونا معلوم ہو اور یہ کھانے والا مدرسے کامخصوص مدعو نہیں(مَثَلاً مدرسے کے دورے (VISIT ) پر آنے والی