Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
49 - 84
سود نہ لیں تو بینک والے غَلَط استِعمال کر سکتے ہیں!
سُوال: آج کل '' سیونگ اَکاؤنٹ(SAVING ACCOUNT) پر'' بینک سے سُود ملتا ہے، اگر ہم نہ لیں تو بینک والے اِس کاغَلَط استِعمال کرتے ہیں بد مذہبوں پرصَرف کرنے کا بھی امکان رہتا ہے، کیا ایسی صورت میں بھی ہم سُود لیکر بِغیر نیتِ ثواب کسی کارِ خیر میں خرچ نہیں کر سکتے؟
جواب: ایسی صورت میں بھی اگر بینک سے سود لیں گے تو گنہگار ہوں گے ۔ سیونگ اَکاؤنٹ(SAVING ACCOUNT) کُھلوانا ہی جائز نہیں کیوں کہ اس پر سُود بنتا ہے۔ عُلَماءِ کرام سیوِنگ اکاؤنٹ کھلوانے سے منع فرماتے ہیں ہاں کرنٹ اَکاؤنٹ (CURRENT ACCOUNT) کُھلوانے کی اجازت دیتے ہیں کیوں کہ اِس میں سود نہیں بنتا۔ یاد رکھئے!شریعت میں سُود حرامِ قَطعی ہے،سُود لینے والا، دینے والا، اس کی گواہی دینے والا، اِس کا کاغذ لکھنے والا سبھی گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں سود کی مَذَمَّت پر تین عبرتناک روایات پڑھئے اور خوفِ خداوندی عزوجل سے لرزیئے:
 (1)خون کی نہر
    سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:''ميں نے شبِ معراج ديکھا کہ دو شخص مجھے اَرضِ مُقدَّس (یعنی بیتَ
Flag Counter