Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
48 - 84
حلقے میں جکڑے ہوئے تھے! ہم نے قَبْر فوراً بند کر دی اور پھاؤڑے والے کو کچھ پیسے دے کرجان چھڑالی۔ پھر وطن واپَسی پر مرحوم حاجی کی بیوہ سے اُس کے اعمال کے بارے میں معلومات کی تو اُس نے بتایا کہ ایک مرتبہ اِس کے ہمراہ ایک مال دار شخص نے سفر کیا ۔ راستے میں اِس نے اُس کو مار ڈالااور اُسکے مال پر قبضہ کر لیا اب یہ حج اور جہاد سب کچھ اُسی کے مال سے کرتا رہا ہے۔          (شرح الصدورص 174)
حرام مال سے حج کرنے والے کی شامت
    میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:سُود کے روپیہ سے جو کارِ نیک کیا جائے اِس میں اِستِحقاقِ ثواب نہیں۔ حدیث شریف میں ہے:'' جو مالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب لَبَّیْک کہتا ہے، ہاتِف، غیب سے جواب دیتا ہے: نہ تیری لَبَّیْک قَبول، نہ خدمت پَذیر، اور تیرا حج تیرے منہ پرمَردود ہے۔(1) یہاں تک کہ تُو یہ مالِ حرام(جو) کہ تیرے قبضے میں ہے اُس کے مُستَحِقَّوں کو واپَس دے۔ حدیث میں ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: ''بے شک اللہ عزوجل پاک ہے ،پاک ہی چیزکو قَبول فرماتا ہے'' ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ

(1) اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین ج۴ ص ۷۲۷ (2) صَحِیح مُسلِم ص۵۰۶حدیث ۱۰۱۵
Flag Counter