| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
نے کُفر لکھا ہے ۔ ہاں وہ جو شَرع نے حکم دیا کہ حقدار ( یعنی جس کا مال ہے وہ، یا وہ نہ رہا ہو تو اُس کا وارِث اور وہ بھی) نہ ملے تو فقیر پر تَصَدُّق (خیرات)کر دے اِس حکم کو مانا تو اِس پر (یعنی حکمِ شریعت پر عمل کرنے پر ) ثواب کی اُمّید کر سکتا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ج23 ص 580)
سُود کے پیسوں سے حج
سُوال: سُودوغیرہ حرام مال سے حج قبول ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب: قبولیّت کی اُمّید نہیں۔ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی(مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ) بہارِشریعت حصّہ 6صَفْحَہ22پر فرماتے ہیں:توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قَبولِ حج کی اُمّید نہیں اگر چِہ فرض اتر جائیگا۔
لوٹ کے مال سے حج کرنے والے کی لرزہ خیز حکایت
بعض مشائخ فرماتے ہیں:ہم ایک مرتبہ حج کو جا رہے تھے کہ راستے میں ہمارے قافِلے کا ایک حاجی چل بسا ۔ ہم نے کسی سے پھاؤڑا مانگ کر لیا۔ قبر کھودی اور اُس کو اُس میں دَفن کر دیا ۔بے خیالی میں پھاؤڑا قبر ہی میں رَہ گیا،پھاؤڑا نکالنے کے لئے ہم نے جب قبر کھودی تو ایک لرزہ خیز منظر نگاہوں کے سامنے تھا، اس شخص کے ہاتھ پَیر پھاؤڑے کے