Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
46 - 84
ضَروری ہے کہ جس کی رقم ہے اُسے ہی واپس لوٹائے اور وہ نہ رہے ہوں تو اس کے وُرَثاء کو دے اور وہ بھی نہ ملیں تو پھر صَدَقہ کرنے کا حکم ہے چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: جو مال رشوت یا تَغَنِّی(یعنی گانے ) یا چوری سے حاصل ہوا اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا ان پر واپس کر دے ، وہ نہ رہے ہوں ان کے وُرثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پر تصدُّق کرے۔ خریدوفروخت کسی کام میں اس مال کا لگانا حرامِ قطعی ہے بِغیر صورتِ مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وَبال سے سُبکدَوشی کا نہیں یہی حکم سُود وغیرہ عُقُودِ فاسِدہ کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بِالخصوص انہیں واپَس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ(جس سے لیا ہے ) اسے واپَس دے خواہ ابتِداء ًتصدُّق(یعنی خیرات) کر دے ۔
(فتاوٰی رضویہ ج23 ص 551)
اور یہ بھی یاد رکھئے کہ سُود و رِشوت وغیرہ حرام مال کو نیک کاموں میں خرچ کرکے ثواب کی اُمّید رکھنے کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: اُسے یعنی مالِ حرام کوخیرات کر کے جیسا پاک مال پر ثواب ملتا ہے اس کی اُمّید رکھے تو سخت حرام ہے ، بلکہ فُقَہاء( رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی )
Flag Counter