جواب:صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:مالِ مُتَقَوِّم(یعنی جسے شریعت نے مال قرار دیا ہو) مُحْتَرَم (یعنی شریعت نے جسے قابلِ حرمت قرار دیا ہے ) منقول (یعنی قابلِ مُنتَقِلی مال وسامان ) سے جائز قبضے کو ہٹا کر ناجائز قبضہ کرنا غَصَب ہے جبکہ یہ قبضہ خُفیَۃً ( یعنی پوشیدہ طور پر)نہ ہو ۔ (بہارِ شریعت حصہ15 ص 23 )
سُود سے مسجِد کے اِستِنجاخانے بنانا کیسا؟
سُوال: سُودی رقم سے غریبوں کی مدد کرنا یا مسجِد کے اِستِنجاخانے تعمیر کروانا کیسا؟ کیا سُودی رقم چندہ میں دی جا سکتی ہے؟
جواب: کسی نے سُود اگر چِہ نیک کاموں میں خرچ کرنے کیلئے لیا تاہَم اُسے سُود لینے کا گُناہ ہوگا۔کسی بھی نیک کام میں سُود اور مالِ حرام نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ سودی مال کے مُتَعلِّق حکم یہ ہے کہ جس سے لیا اسے واپس کریں یا اس مال کو صدقہ کریں جبکہ رشوت ، چوری یا گناہوں کی اجرت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انہیں بھی نیک کاموں میں خرچ نہیں کرسکتے بلکہ ان میں تو یہ