Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
44 - 84
جواب: اگرچِہ اُس کی نیّت رقم کھاجانے کی نہیں تھی تاہَم وہ گنہگارہے کیوں کہ چندے کی رقم اپنے ذاتی مال میں اِس طرح ملادینا کہ نوٹوں وغیرہ کی شناخْتْ نہ رہے جائز نہیں۔نیز اِس میں مزید قَباحَتیں بھی ہیں مَثَلاً اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو تُہمت لگے گی ،فوت ہوگیا تو وہ رقم ڈُوب جانے کا اِمکان موجود ہے۔ چندے کی رقم اپنے گھر وغیرہ میں رکھنی پڑے تب بھی اُس میں چٹھّی لکھ کر ڈالدینی چاہئے کہ یہ فُلاں فُلاں مدّ میں فُلاں فُلاں سے اِتنا اِتنا لیا ہوا چندہ ہے ۔بَہرحال کوئی بھی ایسی تدبیر اِختیار کرنی چاہئے جس سے دنیا میں بعد والوں کو آسانی اور آخِرت میں اپنی گُلو خَلاصی ہو۔چندے کی رقم اپنے مال میں خلْط مَلْط کردینے کی مُمانَعت کیمُتَعَلِّق میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کا فتویٰ مُلاحَظہ ہو ۔ چُنانچِہ ایک سُوال کے جواب میں فرماتے ہیں:'' جبکہ وہ اَشرَفیاں وکیل ( یعنی چندہ لینے والے) نے اپنے مال میں خَلْط کر لیں ( یعنی اِس طرح مِلاڈالیں) کہ اب تمیز نہیں ہو سکتی (تو چندہ دینے والے کا) وہ مال ہلاک ہو گیا اور وکیل (یعنی لینے والے پر) اس کی ضَمان(تاوان) لازِم ہوئی۔ کیونکہ کسی کے مال کو اپنے مال میں ملا دینا اسے ہَلاک کرناہے اور ہَلاک کرنے والا غاصِب (یعنی غصب کرنے والے)کی طرح ہے اور غَصَب پر ضَمان