Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
41 - 84
جواب: اگر اصل مالِکان یا ان کے وکیلوں کا کسی بھی صورت میں معلوم نہ ہوسکے یا ان کا انتقال ہو گیا ہو اور وُرَثاء تک رسائی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر رقم یا دہے تو شخصِ مذکور (یعنی جس نے یہ غلطی کی ہے وہ) اتنی رقم فُقَراء پر تصدُّق (خیرات)کردے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ واستِغفار کی کثرت کرتا رہے یوں اُمّید ہے کہ اللہ تبارک وَتعالیٰ اس کے حقِّ عبد سے سُبکدوشی کی کوئی سبیل فرمادے ۔اور اگر یہ بھی یا د نہیں کہ کتنی رقم تھی جو کہ غیرِ مَصرف میں استعمال کرڈالی اور اس پر دُرُست اطِّلاع کی بھی کوئی سبیل نہیں تو ایسی صورت میں تَحَرّی کرے یعنی غور کرے کہ اندازا ًکتنی رقم اس نے خرچ کی ہوگی پھر جتنی رقم پر گُمان غالب ہو احتیاطاً اس سے کچھ زیادہ رقم فُقَراء کو صَدَقہ کردے ۔
ہر فرد مسائل نہیں جانتا ، اس کا حل؟
سُوال:دعوتِ اسلامی بَہُت ہی بڑی تحریک ہے ،ہر فردعُمُوماً مسائل سے واقِف نہیں ہوتا ،ان مُعاملات کا حل کیا؟
جواب: میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:علمِ دین سیکھنا اس قَدَر کہ مذہبِ حق سے آگاہ ، وُضُو غسل نَماز روزے وغیرہا ضَروریات کے اَحکام سے مُطَّلع ہو۔ تاجر تجارت
Flag Counter