| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
سُوال:اگر کسی سیِّدصاحِب نے یہ بھول کی ہوتو کیاکریں کیونکہ سیِّدزادے سے تو زکوٰۃ کاحِیلہ بھی نہیں کرواسکتے؟
جواب: کسی سیِّد صاحِب نے مَثَلاًزید کے ایک لاکھ روپے کی زکوٰۃ غیر مَصرَف میں صَرف کردی تو اب بطورِ چندہ ملی ہوئی زکوٰۃ کا کسی فقیرِ شَرعی کو مالِک بنادیا جائے ۔فقیرِ شَرعی قبضہ کر لینے کے بعد وہ رقم سیِّد صاحِب کی نَذر کردیں ،اب سیِّد صاحِب قبضہ کرلینے کے بعد اُس رقم کو تاوان کے مَدّمیں ادا کریں یعنی جن صاحبان کی زکوٰۃ میں خطاکی گئی تھی اُن کو یا ان کے وکیل کووہ رقم لوٹا دیں ۔اور توبہ بھی کریں ۔
زکٰوۃ فِطرہ غیرِ مَصرَف میں خرچ کرڈالا اب کیا کرے؟
سُوال:کئی افراد کی زکوٰۃ ، فطرے کی رقم بِغیر حیلہ کئے غیرِ مَصرف میں مَثَلاً تعمیر مسجد و مدرَسہ اور امام ومؤَذِّن اور مدرِّسین وغیرہ کی تنخواہوں میں استِعمال کر ڈالی! مَسئَلہ (مَس۔ءَ۔لہ)معلوم ہونے پر اب نادِم ہے ۔ زکوٰۃ و فطرہ دینے والوں یا ان کے وکیلوں وغیرہ کی کوئی پہچان نہیں ۔ رقم کی گنتی بھی نہیں معلوم، یہ اُلجھن کیسے حل ہو؟