جواب :اگر یہ اب فقیرِشَرعی ہے تو اُس پر جتنا تاوان ہے اُتنی زکوٰۃ دیکر اُس کو اِس کا مالِک بنادیا جائے، اب جن جن کی زکوٰۃ کا اس نے غَلَط استِعمال کرڈالا تھا مذکورہ طریقۂ کار کے مطابِق تاوان ادا کرے۔یعنی جن جن صاحِبان کی زکوٰۃ تھی اُن کو یا اُن کے وکیلوں کولوٹائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اور فقیرِشَرعی زکوٰۃ و فِطرہ کی رقم اپنی مِلک بنا لینے کے بعد جس پر تاوان چڑھا ہوا ہواُس کو تُحفے میں دیدے یا اِس کا قبضہ ہونے کے بعد اُس کی اجازت لیکر اُس کی طرف سے تاوان ادا کر دے ۔اوردونوں صورَتوں میں توبہ بھی کرے۔ یہ حِیلہ اس لئے بیان کیا گیا کہ لاعلمی کی وجہ سے حُسنِ نیّت کے باوُجُود جو اس گناہ اور تاوان میں مبتلا ہوگئے انہیں سَہولت ہو جائے ۔ یہ نہیں کہ اس حِیلے کوبُنیاد بنا کر زکوٰۃ و صَدَقات وغیرہ کو مَعاذَاللہ عزوجل ناجائز و حرام طریقے سے استِعمال کرنا شروع کردیا جائے! اگر اس نیّت سے فِعلِ حرام کا اِرتِکاب کیا کہ بعد میں توبہ کرلوں گا اور حِیلے کے ساتھ تاوان سے بھی چُھٹکارا حاصل کرلوں گا تو بعض صورَتوں میں لُزومِ کفر کا حکم بھی ہوسکتا ہے۔