جواب: یہاں جَہالت عُذر نہیں،اِس نے کیوں نہیں سیکھا! کہ جس کو چندہ جمع کرنا ہو یا چندہ خرچ کرنا ہو اُس کیلئے اِس کے ضَروری مسائل جاننا فرض ہے ۔ نہیں سیکھا تو فرض کا تارِک اور گنہگار ہوا۔باِلفرض کسی نے زکوٰۃ یا فِطرہ کی رقم کو بِغیرحِیلۂ شَرعی غیر مَصرَفِ زکوٰۃ و فِطرہ میں خرچ کرڈالا تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُس پر تاوان بھی لازِم آئیگا ۔مَثَلاً کسی نے دعوتِ اسلامی کو زکوٰۃ دی اور ذمّہ دار نے بِغیر حیلہ کئے وہ رقم تعمیرِ مسجِد یا مدرِّس کی تنخواہ یا اسی طر ح کے نیک کاموں میں صَرف کردی تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُسے پلّے سے تاوان ادا کرنا ہو گا اگرچِہ وہ رقم لاکھوں بلکہ کروڑوں کی ہو ،اِس کیلئے فَقَط زبانی توبہ کافی نہیں ۔