فطرہ وغیرو صدقاتِ واجِبہ جس نے دیئے تھے اُسی دینے والے کو ادا کرے(2) اگر وہ آلات و اسباب چولھے،برتنوں اور دیگر سامان کے مد کی چیز ہے جوکہ چندہ دینے والے کی ملک پر باقی رہتی ہے تو بھی بے جااستعمال کی صورت میں تاوان چندہ دینے والے کو ہی دیا جائے گا (3)اگروہ عام صدقاتِ نافِلہ (عطیات DONATION ) ہیں تو اگر وہ مدرسے کے مُتَوَلّی یامُتَولّی کے وَکیل یعنی ناظِم ومہتمم کو دیدیے گئے مَثَلاً ناظِم کو دیئے گئے اور اس نے اس میں بیجا تَصَرُّف کرکے ہَلاک کردیا تو وہ تاوان کی رقم مدرسہ میں جمع کروائے گا اور اگر یہ صَدَقاتِ نافِلہ ،دینے والے کے وکیل ہی کے پاس تھے اور ابھی مدرَسے کو نہیں دئے گئے تھے اور اس میں بیجا تصرُّف ہوا تو اب تاوان کی رقم چندہ دینے والے کو دی جائے گی اور وہ نہ ہو تو اس کے وُرثاء کو اور وہ نہ ملیں تو کسی فقیرِشرعی کو دیدیں اگرچِہ وہ فقیر شرعی اسی مدرَسے کا طالبِ علم ہو اور طالبِ علم چاہے تو قبضے کے بعد وہ رقم مدرَسے کو دیدے (4) اگر یہ مسئلہ کھانے وغیرہ کے مُتَعلِّق ہو مَثَلًا ناظم نے مدرَسے کا کھانا کسی غیرِ مستحق کو کھلا دیا تو اس صورت میں تاوان کی رقم مدرَسے میں جمع کروائی جائے گی۔ اور ان سب صورَتوں میں توبہ بھی لازم ہو گی۔