میں بھی صَرف کر سکتاہے۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ563 پر فرماتے ہیں: ''چندے کا روپیہ چندہ دینے والوں کی مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں، جب اس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیا جائے یا کسی دوسرے کام کے لئے(استِعمال کر لیں جس کی) وہ اجازت دیں، ان(چندہ دینے والوں) میں جو(زندہ) نہ رہا ہو ان کے وارِثوں کو دیا جائے یا ان کے عاقِل بالِغ(ورثا) جس کام میں (صَرف کرنے کی) اجازت دیں(اس میں استعمال کریں) ہاں جو ان میں (زندہ)نہ رہا اور ان کے وارث بھی(زندہ) نہ رہے یا پتا نہیں چلتا یا معلوم نہیں ہو سکتا کہ کس کس سے لیا تھا کیا کیا تھا وہ مِثلِ مالِ لُقطہ ہے۔ مَصرفِ خیرمِثلِ مسجِد اور مدرَسۂ اہلِ سنّت ومَطبعِ اہلِ سنّت وغیرہ میں صَرف ہو سکتا ہے۔ وھُوَ تعالٰی اعلم۔ مزیدمعلومات کیلئے فتاویٰ رضویہ جلد16 صَفْحَہ 134 پر لکھا ہوا اِسْتِفْتاء اور فتویٰ پڑھ لیجئے۔