Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
34 - 84
دُرُست قرار دے دے (یعنی مَثَلاًکہہ دے کوئی حرج نہیں) تو یہ بَرِیُّ الذِّمّہ ہو جائے گا اور اگر وہ اسے دُرُست نہ قرار دے تو جس کے چندے کی جتنی رقم غَلَط استِعمال کر دی اُتنی ہی رقم پلّے سے چندہ دینے والے کو ادا کرے مَثَلاً مسجِد کے وُضو خانے کی تعمیر یا وُضو کے پانی کیلئے ٹینکر منگوانے کی مَدّ میں جو چندہ کیا وہ وَیسے ہی یا بچ جانے کی صورت میں چندہ دینے والے کی اجازت کے بِغیر مسجِد کے رنگ چُونے میں خَرچ کر دیا تو جِتنی رقم رنگ چُونے پرخَرچ کی وہ اپنے پَلّے سے چندہ دینے والے کو لوٹائے ، وہ فوت ہو چکا ہو تو اُس کے وارِثوں کو دے اگر بالِغ وارِث کسی اور نیک کام میں صَرف کرنے کی اجازت دے دیں تو جو جو اِجازت دیگا اُسی کے حصّے میں سے صَرف کیا جا سکتا ہے اور اگر ان میں نابالِغ یا پا گل بھی ہیں تو ان کا حصّہ ہر صورت میں ادا کرنا واجِب ہے،کیونکہ وہ اجاز ت دینے کے شرعاًاہل نہیں۔ اگر چندہ دینے والے کا کوئی وارِث نہ ہو یا کسی طرح چندہ دینے والے کا پتا نہ لگے تو اب چندہ جس مَدّ میں( یعنی جس کام کے لئے )لیا تھا اُسی طرح کے کام میں تاوان والی رقم خرچ کر دے ،اگر یہ بھی نہ بن پڑے تو اس کا حکم لُقطے کے مال(یعنی گری پڑی ملنے والی چیز) کی طرح ہے یعنی مساکین میں خیرات کر دے یا کسی بھی مَصْرَفِ خیر مَثَلًا مسجد مدرَسہ وغیرہ