Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
33 - 84
بطورِ امانت رکھے ہوئے چندے کو اُدھار لینا کیسا؟
سُوال:     اگر کسی کے پاس اَمانَۃً مسجِد کاچندہ رکھوا یا گیا اور اُس نے اَمانت کی رقم کو اپنے لئے بطورِ قرض لیکر خرچ کر دیا ہو، اُس کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :مسجِد خواہ غیر مسجِد کسی کی امانت اپنے صَرف میں لانا اگر چِہ قرض سمجھ کر ہو حرام و خِیانت ہے۔ توبہ و اِستِغفار فرض ہے اور تاوان لازِم، پھر (اُتنی ہی رقم )دے دینے سے تاوان ادا ہو گیا ، وہ گنا ہ نہ مٹا جب تک توبہ نہ کرے۔ وَاللہُ تعالٰی اعلم۔                 (فتاوٰی رضویہ ج 16 ص489)
تاوان ادا کرنے کا طریقہ
سُوال:    چندہ غیر مصرف میں خرچ کر دیا اب اس کاتاوان (ضَمان) ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: ایسے معاملے میں تاوان(ضَمان) ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس نے چندہ دیا اُسے اِطِّلاع کرے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے مَصْرَف (یعنی آپ نے جہاں جہاں خرچ کرنے کا کہا تھا یا جن کاموں میں خرچ کیا جانا چاہئے تھا اس )کے علاوہ میں خرچ کر دیا ہے ، اگر چندہ دینے والا اسے
Flag Counter