جواب: اَوَّل تویِہی گناہ کا کام تھا کہ مسجِد کا چندہ کسی مقتدی کواُدھار دیدیا اِس لئے کہ جو چندہ مسجِدکیلئے کیا جاتا ہے اُس میں مقتدیوں کو اُدھار دینے کا عُرف (رَواج) نہیں۔ توبہ کرنی ہو گی اور وہ رقم ڈوب جانے کی صورت میں جس جس نے قرض دینے کے حق میں فیصلہ کیا اُس کو رقم پلّے سے ادا کرنی ہو گی۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:مُتَوَلّی کو روا( یعنی جائز) نہیں کہ مالِ وقف کسی کو قرض دے یا بطورِ قرض اپنے تَصرُّف میں لائے۔ (فتاوٰی رضویہ ج 16 ص574)