Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
32 - 84
کرنے کا اس کو کوئی اِختیار نہیں ہے اگراس طرح کر لیا،تو اگر چندہ دینے والوں کو جانتا ہے تو چندہ دینے والوں کو اُس کا تاوان (اُتنی ہی رقم )واپس کرے یا ان سے نئی اجازت لے۔ (فتاوٰی عالمگیری ج2ص480)
مسجِد کا چندہ اُدھار دیدیا تو؟
سُوال:    اگر چندے کے صندوقچے سے نکلی ہوئی رقم کا غَلَط استِعمال ہو گیامَثَلاً مُتَو لِّیانِ مسجِد نے اتِّفاقِ رائے سے کسی غریب مُقتدی کو اُس میں سے کچھ رقم اُدھار دے دی اور وہ اب ادا نہیں کرتا۔اِس کا حل؟
جواب: اَوَّل تویِہی گناہ کا کام تھا کہ مسجِد کا چندہ کسی مقتدی کواُدھار دیدیا اِس لئے کہ جو چندہ مسجِدکیلئے کیا جاتا ہے اُس میں مقتدیوں کو اُدھار دینے کا عُرف (رَواج) نہیں۔ توبہ کرنی ہو گی اور وہ رقم ڈوب جانے کی صورت میں جس جس نے قرض دینے کے حق میں فیصلہ کیا اُس کو رقم پلّے سے ادا کرنی ہو گی۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:مُتَوَلّی کو روا( یعنی جائز) نہیں کہ مالِ وقف کسی کو قرض دے یا بطورِ قرض اپنے تَصرُّف میں لائے۔             (فتاوٰی رضویہ ج 16 ص574)
Flag Counter